بین الاقوامیخبریں

صدر بزشکیان کا پہلا سال: بحران، جنگ اور مفاہمت کی آزمائش

خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو بزشکیان کی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے جو انہیں مصلحت پسندی کا طعنہ دے رہے تھے۔ مبصرین کے مطابق، انہوں نے ان الزامات کا مقابلہ مفاہمت کی پالیسی سے کیا، مگر خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔
ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری
چھ جولائی کو، ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں اپنی فتح کا ایک سال مکمل کیا، جو کہ غیر معمولی چیلنجز کے طوفان سے بھرا ہوا سال رہا۔ ان کی حکومت نے پہلے ہی دن سے کڑی آزمائشوں کا سامنا کیا، جب ان کی حلف برداری کے دن ہی حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تل ابیب کی جانب سے تہران کے وسط میں قتل کر دیا گیا۔
چونکہ ان کی فتح کا اعلان ماہ محرم کی آمد کے ساتھ ہوا، جو ایران میں غم اور ماتم کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان کے حامی جشن نہیں منا سکے۔ اور ہنیہ کے قتل کے بعد بزشکیان کی جانب سے جشن منانے کی اجازت نہ دینا حیران کن نہ تھا، کیونکہ ہنیہ بزشکیان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران آئے تھے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ان کی فتح کی پہلی سالگرہ پر بھی جشن منسوخ کر دیا گیا، اس بار امریکی-اسرائیلی حملے کے نتائج کے باعث۔

بحرانوں کا تسلسل
ایرانی امور کے مبصرین جانتے ہیں کہ بزشکیان کی حکومت کا پہلا سال ایک تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف تھا۔ ان کے اقتدار کا آغاز ہی اس خبر سے ہوا کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ اور ایرانی قدس فورس کے کمانڈر عباس نیلفروشان لبنان میں مارے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی، جس سے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا ایک نیا باب کھل گیا۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو بزشکیان کی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے جو انہیں مصلحت پسندی کا طعنہ دے رہے تھے۔ مبصرین کے مطابق، انہوں نے ان الزامات کا مقابلہ مفاہمت کی پالیسی سے کیا، مگر خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔
پچھلے سردیوں میں توانائی کی شدید قلت نے ایک اور بحران کو جنم دیا، جس پر بزشکیان نے عوام سے معذرت کی اور اس صورتحال کو ’’برسوں کی بدانتظامی کا نتیجہ‘‘ قرار دیا۔ان کی حکومت کو حجاب کے قانون پر سماجی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے اس قانون کے نفاذ سے گریز کیا، حالانکہ اس قانون کے حامی صدارتی محل کے سامنے مظاہرے کر رہے تھے۔ بزشکیان کے بارے میں نقل کیا گیا کہ وہ ’’عوام کے سامنے بند باندھنے کے قائل نہیں‘‘، اور انہوں نے انٹرنیٹ پر پابندیاں ہٹانے کی بھی کوشش کی’’واٹس ایپ‘‘ اور’’گوگل پلے‘‘پر عائد پابندی ختم کرنا ایک علامتی قدم تھا، جو حکومتی پالیسی میں سیکیورٹی بمقابلہ ترقی کی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔

سال کا اختتام اور جنگ
بزشکیان کی حکومت کا پہلا سال ایک اور بڑے بحران پر ختم ہوا: ایک براہِ راست اسرائیلی اور امریکی حملہ جس میں ایرانی فوجی و شہری مارے گئے، اور جوہری، اقتصادی و سلامتی کے ادارے تباہ ہوئے۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بزشکیان نے عوامی اتحاد و یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا:
’’ہمیں اس قوم کی آواز سننی چاہیے‘‘۔ یہ جملہ ایرانی سڑکوں پر خاصا مقبول ہوا۔
حکومتی میڈیا کونسل کے سیکرٹری محمد کلزاری نے کہا کہ بزشکیان کی حکومت نے ’’بڑے بحرانوں‘‘ کو عبور کیا، جن میں سے کوئی ایک بھی ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کافی تھا۔ ان کے مطابق، کامیابی کی وجہ بزشکیان کی شخصی قیادت، عوام سے جڑے رہنا، اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای و دیگر ریاستی اداروں سے ہم آہنگی تھی۔

متوازن قیادت
’’ایکس‘‘(سابقہ ٹوئٹر) پر کلزاری نے بزشکیان کی قیادت کو’’میدانی انتظام اور فعال سفارت کاری‘‘کا امتزاج قرار دیا، اور کہا کہ ان کی حکومت کے پہلے سال کا سفر’’محض ایک طوفان نہیں بلکہ مسلسل بحرانوں کی یلغار‘‘تھا۔اصلاح پسند سیاستدان محمد علی ابطحی نے کہا کہ بزشکیان ’’ایران کی تاریخ کے بدقسمت ترین صدر‘‘رہے، جنہیں گزشتہ 30 سالوں کے دباؤ ورثے میں ملے۔
الجزیرہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بزشکیان نے ’’انقلاب کے بعد کی تاریخ کے بدترین حالات کا سامنا کیا‘‘۔ خاص طور پر حالیہ جنگ، جس میں ایران نے 12 دن تک واشنگٹن اور تل ابیب کا سامنا کیا۔ابطحی نے بزشکیان کی معاشی بہتری، عالمی تعلقات میں بہتری اور جنگ سے اجتناب کی کوششوں کو سراہا، اور کہا کہ وہ جنگ کے سخت مخالف تھے اور ہمیشہ مذاکرات پر زور دیتے رہے۔
البتہ انہوں نے اس بات پر افسوس بھی ظاہر کیا کہ بزشکیان نے ’’قومی مفاہمت‘‘ کی پالیسی یکطرفہ طور پر اپنائی، جبکہ قدامت پسند مسلسل ان کی حکومت کی کردار کشی کرتے رہے۔ تاہم، ان کے مطابق حالیہ جنگ نے معاشرے میں حقیقی قومی مفاہمت پیدا کی۔ابطحی کے خیال میں عوام کی اکثریت حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے، اور صرف چند ہی لوگ حالیہ واقعات کو حکومت کی ناکامی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود بزشکیان نے اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہے۔

تنقید اور دفاع
اس کے برعکس، قدامت پسند سیاسی کارکن محمد مہاجری نے کہا کہ بزشکیان کی مقبولیت کو نقصان پہنچا، اور کئی انتخابی وعدے پورے نہیں ہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ’’ہنگامی حالات‘‘ کے باعث کئی اندرونی مسائل پر توجہ دینا ممکن نہ تھا۔مہاجری کے مطابق، بزشکیان نے اپنے وعدوں کے حوالے سے کچھ کامیابیاں حاصل کیں اور قدامت پسند طبقہ بھی موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی حکومت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اگر بزشکیان کی جگہ کوئی اور انتخابی امیدوار جیتتا، تب بھی ٹرمپ کی واپسی اور بین الاقوامی کشیدگی سے بچنا ممکن نہ ہوتا۔ ان کے مطابق، مخالف امیدوار کی ’’انقلابی زبان‘‘شاید خطے میں کشیدگی اور بڑھا دیتی۔

معیشت اور حکومتی ترجیحات
تہران یونیورسٹی کے ماہرِ اقتصادیات محمد خوش جہرہ کے مطابق، بزشکیان کی حکومت نے کٹھن حالات میں معاشی استحکام اور عوام کی ضروریات پوری کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔انہوں نے سرکاری اخبار’’ایران‘‘ میں شائع ایک مضمون میں لکھا کہ حالیہ واقعات کے باعث حکومتی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اب قومی سلامتی اور سرحدوں کا تحفظ اولین مقصد بن چکا ہے، اور اس کے لیے ملکی وسائل کا بڑا حصہ مختص کیا جا رہا ہے۔خوش جہرہ کے مطابق، ترقیاتی اہداف کو وقتی طور پر پیچھے ڈالنا، اور معاشی و سلامتی کا استحکام برقرار رکھنا حکومت کا سب سے اہم ہدف ہے، چاہے اس کی قیمت معاشی ترقی میں کمی ہی کیوں نہ ہو۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button