قومی
حیدرآباد میں اردو صحافت، ادب اور تاریخ کا خوبصورت امتزاج
حیدرآباد:31؍مئی(پریس نوٹ)اردو ادب کو نئی نسل سے جوڑنے، اور اردو صحافت و تحقیق کے فروغ کے مقصد سے ڈیسنٹ ایجوکیشن سوسائٹی، حیدرآباد کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی اجلاس اور مشاعرہ کا انعقاد اردو گھر، مغل پورہ میں عمل میں آیا۔ اس اجلاس کا مرکزی موضوع ’’ریاستِ حیدرآباد میں اردو صحافت کا سنہرادور‘‘ تھا، جس میں مختلف دانشوروں، اساتذہ، صحافیوں اور شعراء نے شرکت کی۔صدارتی خطاب میں ممتاز قانون داں ایڈوکیٹ واحد علی خان نے اردو صحافت کی تابناک روایات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت نے تاریخ کے نازک موڑ پر اقتدار کو چیلنج کیا اور اپنے زورِ قلم سے کرسیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے جرنل ’’تاریخ دکن‘‘ کی اشاعت کو ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے مدیرِ جرنل اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ایڈوکیٹ واحد علی خان نے بتایا کہ ’’تاریخ دکن‘‘کے چھ ماہ سے جاری پرنٹ و الیکٹرانک اشاعت کا سلسلہ اردو زبان میں علمی معیار کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی علمی کاوشیں اردو کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔پروفیسر ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جرنل’’ تاریخ دکن‘‘ اردو تحقیق و تدوین کے میدان میں ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلے کو باقاعدگی سے جاری رکھا جائے تو یہ رسالہ مورخین اور ریسرچ اسکالرس کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ بھروسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ اردو میں تحقیقی جرنلز کی شدید قلت کے پیشِ نظر اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے۔مہمانِ اعزازی ڈاکٹر مختار احمد فردین، صدر آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس نے جرنل ’’تاریخ دکن‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کی رسمِ اجرائی کے متعلق بتایا کہ یہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پدم شری پروفیسر سید عین الحسن کے ہاتھوں نیشنل سیمینار میں انجام پائی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ ایڈیشن اس قدر بروقت اور جامع تھا کہ خود وائس چانسلر نے حیرت کا اظہار کیا کہ تقرری کے صرف دو دن بعد ہی اُن کی تصویر کے ساتھ ایک معیاری مضمون بھی شائع ہو چکا ہے۔ڈاکٹر آصف علی، ہیڈ، ٹی وی چینل روبی نیوز نے اردو صحافت میں ’’تاریخ دکن‘‘ کے کردار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو میں تحقیقی صحافت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، اور یہ جرنل یقیناً ایک صحت مند اور مستند تاریخ رقم کرے گا۔حافظ ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی، ایڈیٹر صدائے شبلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے دور میں کسی رسالے یا اخبار کو نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے دستیاب کئی اسکیموں سے اردو کے مدیران واقف نہیں، جس کے باعث وسائل کی کمی اس شعبے کو متاثر کر رہی ہے۔سینئر صحافی عبدالحامد منان نے ڈیسنٹ ایجوکیشن سوسائٹی اور ’’تاریخ دکن‘‘ جرنل کے منتظمین کو مبارکباد دی اور اس کاوش کو اردو صحافت کے لیے حوصلہ افزا قدم قرار دیا۔اس موقع پر مدیر جرنل ’’تاریخ دکن‘‘ ڈاکٹر سید حبیب امام قادری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جرنل کے پرنٹ اور الیکٹرانک ایڈیشن کے ذریعے حیدرآباد دکن کے ادباء و شعراء کی علمی، ادبی اور تہذیبی خدمات کو محفوظ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف ماضی کی عظمت کو اجاگر کرنا ہی نہیں، بلکہ جدید دور کے تقاضوں کو بھی اپنانا ہے۔انہوں نے کہا:’’ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) جیسے جدید ذرائع دنیا کو تیز رفتاری سے بدل رہے ہیں۔ ایسے میں اردو سے وابستہ افراد کو بھی وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘اس باوقار موقع پر دیگر ممتاز شخصیات بھی شریک رہیں، جن میں ڈاکٹر مشتاق احمداسوسی ایٹ پروفیسرعثمانیہ یونیورسٹی‘پروفی ڈاکٹر علی بازہر ھُما، ایڈیٹر تلنگانہ میگزین، صاحبزادہ سید مبارک اللہ برکت، ڈاکٹر نجمہ سلطانہ (ایڈیٹوریل بورڈ ممبر)، محمد ہارون عثمان (ایسوسی ایٹ ایڈیٹر)،پرویز احمد، سید فیروز علی، نصراللہ (سینئر صحافی)، سلیم الہامی اور جناب سید رضی الدین قادری شامل تھے۔اجلاس کے اختتام پر ای جرنل ’’تاریخ دکن‘‘ کی رسم رونمائی ایڈوکیٹ واحد علی خان اور دیگر مہمانانِ گرامی کے ہاتھوں انجام پائی، جسے شرکائے اجلاس نے دل کھول کر سراہا اور اردو صحافت میں ایک تاریخی اضافہ قرار دیا۔بعدازاں شعری رنگوں سے سجی محفل ، استادِ سخن جناب شاہد عدیلیؔ کی صدارت میں ایک خوبصورت مشاعرہ منعقد ہوا جس نے محفل کو روحانی اور ادبی رنگوں سے مزین کر دیا۔ اس مشاعرے میں صاحبزادہ مجتبیٰ فہیمؔ، ڈاکٹر تبریز حسین تاجؔ، ڈاکٹر ممتاز سلطانہ، جہانگیر قیاس جیسے معتبر شعراء نے اپنا کلام سنایا۔مشاعرے کی نظامت دکن کے ممتاز ناظم مشاعرہ سید سہیل عظیم نے انجام دی، جن کی پر اثر آواز اور سلیقہ مندانہ اندازِ نظامت نے محفل میں جان ڈال دی۔ شاہد عدیلیؔ کی طنز و مزاح سے بھرپور شاعری کو کئی بار سنا گیا اور حاضرین نے بھرپور داد دی۔آخر میں ایڈوکیٹ واحد علی خان نے تمام معزز مہمانوں، شرکاء، شعراء، صحافیوں اور سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اردو کی ترویج و ترقی کے لیے یہ سفر مسلسل جاری رہے گا۔



