خبریںریاستی

انبیا کرام کی سنتِ دعوت کو اپنانے اور ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنے کا پیغام

حیدرآباد:حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی زندگیوں کا محور و مرکز ’’دعوتِ دین‘‘ رہی ہے۔ یہ وہ عظیم سنت ہے جس کے لیے انبیاء نے اپنی زندگیاں وقف کیں، بے شمار مصائب برداشت کیے اور عظیم قربانیاں پیش کیں۔عیدالاضحیٰ کے مبارک موقع پر مسجد انجمن خادم المسلمین، کاچی گوڑہ میں ایک روح پرور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین ڈاکٹر سید حبیب امام قادری نے اسی عظیم الشان سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانۂ کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا:’’اے ابراہیم! لوگوں کو حج کے لیے بلاؤ، اعلان کرو۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:’’یا اللہ! میری آواز کہاں تک پہنچے گی؟‘‘اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’اعلان تمہارا کام ہے، آواز پہنچانا ہمارا کام ہے۔‘‘ڈاکٹر قادری نے وضاحت کی کہ اس حکم کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کوہِ صفا یا ایک روایت کے مطابق جبلِ ابو قبیس پر تشریف لے گئے اور وہاں کھڑے ہو کر سب سے پہلے لبیک کہا:’’لَبَّیْکَ اللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ‘‘یہ وہی تلبیہ ہے جو آج تک ہر حاجی کی زبان پر جاری ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر بیتِ عتیق (کعبہ شریف) کا حج فرض کیا ہے۔‘‘ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا:’’اللہ تمہیں حجِ بیت اللہ کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمہیں جنت عطا فرمائے اور دوزخ سے نجات دے۔‘‘ڈاکٹر سید حبیب امام قادری نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ دعوتِ دین صرف زبان سے کہنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا عظیم مشن ہے جس میں انسان کو ہر طرح کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ جان، مال، وقت، سکون، حتیٰ کہ عزت و نفس سب کچھ اس راہ میں قربان کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سورۃ آلِ عمران کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’ہم ضرور تمہیں آزمائش کی بھٹّی سے گزاریں گے، تمہیں چھان کر دیکھیں گے، یہاں تک کہ نچلے درجے کے لوگ بلند ہو جائیں اور بلند سمجھے جانے والے نیچے آ جائیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ اپنے دین کے کام کے ذریعے انسانوں کو آزماتا ہے۔ دعوت کا میدان کسی رسم یا محض خطابت کا نہیں، بلکہ یہ ایثار، خلوص، اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔ جو لوگ سستی اور غفلت کے باعث پیچھے رہ گئے، وہ اخلاص اور قربانی سے آگے آ سکتے ہیں، اور جو ابتدا میں آگے تھے، اگر کوتاہی کریں تو پیچھے بھی جا سکتے ہیں۔آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ:’’اگر ہم واقعی انبیاء علیہم السلام کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی دعوتِ دین کو اپنی زندگی کا مشن بنانا ہوگا۔ قربانی کا اصل مفہوم یہی ہے کہ انسان اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہر طرح کی آزمائش کو خندہ پیشانی سے قبول کرے۔آخر میں عالمِ اسلام کے امن و سلامتی اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے لیے خصوصی دعااختتام پر عالمِ اسلام کے اتحاد، امن و سلامتی، اور بالخصوص فلسطین کے مجبور، بے کس اور مظلوم مسلمانوں کے حق میں دعا کی گئی۔ دعا میں اللہ رب العزت سے فلسطینی عوام پر اپنا خاص رحم و کرم فرمانے، ظلم سے نجات عطا کرنے، اور وہاں امن و امان کے قیام کی التجا کی گئی۔اس روحانی اجتماع میں انجمن خادم المسلمین، کاچی گوڑہ کے نائب صدر ایڈوکیٹ محمد اکرام الدین مرتضیٰ پاشاہ، سید شجاع الدین قادری، سید نجم الدین قادری، ڈاکٹر سید فصیح الدین قادری سمیت کثیر تعداد میں اہلِ ایمان شریک تھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button