دہشت گرد پاکستان کی منافقت :درندہ صفت ٹرمپ کے لیے نوبل سفارش
پاکستان کا چہرہ بے نقاب: دہشت گردی کی پناہ گاہ جو درندہ صفت ٹرمپ کو امن کا پیغامبر بنانا چاہتا ہے
امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے سے ایک روز قبل پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کرے گا۔ پاکستان نے ٹرمپ کے بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری تنازعے کے دوران جنگ بندی کروانے میں کردار کو تسلیم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔گزشتہ نوبل انعام یافتگان میں شامل ہیں سابقہ ٹائم 100 خواتین برائے سال ملالہ یوسفزئی، اور ٹائم کے پرسن آف دی ایئر رہنے والے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور سابق صدر براک اوباما۔پاکستانی حکومت نے اپنے اعلان میں کہا، ’’ایک ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگی عروج پر تھی، صدر ٹرمپ نے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کے ساتھ مضبوط سفارتی رابطوں کے ذریعے شاندار حکمت عملی اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جس نے تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو میں کیا، بالآخر جنگ بندی کو یقینی بنایا اور دو جوہری ریاستوں کے درمیان وسیع تر تنازعے کو روکا، جس کے نتیجے میں خطے اور اس سے باہر لاکھوں لوگوں کے لیے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ مداخلت ان کے حقیقی امن ساز کردار اور مکالمے کے ذریعے تنازعہ حل کرنے کے عزم کا ثبوت ہے۔‘‘پاکستانی حکومت نے کہا کہ ٹرمپ کی قیادت 2025 کے پاکستان-بھارت بحران کے دوران عملی سفارتکاری اور مؤثر امن سازی کی ان کی میراث کی عکاس ہے۔
جب ٹرمپ نے 10 مئی کو بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ’’امریکہ کی ثالثی میں طویل رات کی بات چیت کے بعد‘‘ طے پایا۔ بعد ازاں انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا،’’ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے ان کے فعال کردار کے شکرگزار ہیں۔ پاکستان امریکی کوششوں کو سراہتا ہے جن کے نتیجے میں یہ جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے ہم نے علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا۔‘‘
پاکستان کا ایک دہشت گرد ملک ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ایک ایسے درندہ صفت انسان یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام کی سفارش کرتا ہے، جس نے پورے عالمی سطح پر خونریز جنگوں، ناانصافیوں اور جارحیت کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ یہ سفارش صرف پاکستان کی سفارتی نااہلی ہی نہیں بلکہ اس کے کردار کی بدنظمی اور تضادات کا بھی عکاس ہے۔دنیا جانتی ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کی آماجگاہ رہا ہے، جہاں ریاستی سرپرستی میں دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دی جاتی ہے اور وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ایسے ملک سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے واقعی کردار ادا کرے؟ بالکل نہیں۔مزید قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان بھی اسرائیل کی طرح امریکہ کا ایک اہم اور قابلِ بھروسہ ساتھی ہے۔ اگرچہ ترکی ‘سعودی اورپاکستان اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں اور عالمی طاقتوں کے سیاسی ایجنڈوں کی تکمیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں سے ان کی ہمدردی محض دکھاوے تک محدود ہے، جبکہ وہ اپنی حکمت عملیوں سے مسلمانوں کی سب سے زیادہ تکلیف اور نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔پاکستان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے سفارش کرنا ایک ایسا تناقض ہے جو عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف پاکستان دہشت گردوں کو پروان چڑھاتا ہے اور اپنی سرزمین کو عالمی دہشت گردی کی تربیتی کیمپ کے طور پر استعمال ہونے دیتا ہے، تو دوسری طرف وہ ایک ایسے عالمی رہنما کی حمایت کرتا ہے جس کی پالیسیوں نے خطے اور دنیا کو بے شمار مشکلات میں مبتلا کیا ہے۔
یہی نہیں، بلکہ پاکستان کی یہ حرکت خود اس کے اس دعوے کو بھی بے معنی کر دیتی ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں اسلام اور مسلمانوں کا محافظ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی حکومت، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے کئی دہائیوں سے خود دہشت گردی کو فروغ دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف خطے میں امن برباد ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو دہشت گرد ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔لہٰذا، ایسے ملک کی جانب سے عالمی امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ایک متنازعہ رہنما کی حمایت کرنا نہ صرف بے وقوفی ہے بلکہ خطے اور دنیا کے لیے خطرناک بھی ہے۔ اگر پاکستان واقعی امن کا خواہاں ہوتا تو پہلے اپنے اندرونی دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کرتا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا۔
آخر میں کہنا چاہیے کہ پاکستان کی یہ سفارش نہ صرف عالمی برادری کے لیے بلکہ خود پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ ایک دہشت گرد ملک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کو روکنے اور امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، نہ کہ اپنی مذموم سفارتی حکمت عملیوں سے عالمی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے۔





