ایران پر حملہ: امریکی ارکانِ کانگریس کا ٹرمپ پر آئین شکنی اور جنگ چھیڑنے کا الزام
اگرچہ کچھ سیاسی مصلحتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں، لیکن امریکی کانگریس کی یہ تنقید محض دکھاوا نہیں بلکہ ایک آئینی، سیاسی اور اخلاقی فریضے کا اظہار ہے — جس کا مقصد طاقت کے استعمال کو قانونی دائرے میں رکھنا اور جنگ جیسے بڑے فیصلوں پر عوامی نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے کئی اراکین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور اُن پر مشرقِ وسطیٰ میں ملک کو جنگ کی طرف دھکیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کے رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ ٹرمپ فضائی حملوں کے ذریعے ملک کو جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا:
“صدر ٹرمپ نے اپنی نیت کے بارے میں قوم کو گمراہ کیا ہے، اور انہوں نے کانگریس سے فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت حاصل نہیں کی، جو کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ممکنہ تباہ کن جنگ میں ملوث کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
اسی دوران ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین نے بھی کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ارادوں کے بارے میں قوم کو گمراہ کیا اور کانگریس سے طاقت کے استعمال کی اجازت لینے میں ناکام رہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن لانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اس وعدے کو نبھانے میں ناکام رہے۔
ایوانِ نمائندگان کی رکن نینسی پیلوسی نے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی آئین کو نظرانداز کیا ہے، کیونکہ انہوں نے فوج کو یکطرفہ طور پر استعمال میں لاتے ہوئے کانگریس سے اجازت نہیں لی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کارروائی پر جواب دیا جائے، جو امریکیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔
دوسری جانب، کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن اور ایران میں امریکی مداخلت کے نمایاں مخالف، رکنِ کانگریس تھامس میسی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ صدر ٹرمپ کا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔
اسی طرح، ورمونٹ سے آزاد سینیٹر برنی سینڈرز نے اوکلاہوما میں انتخابی جلسے کے دوران ایران پر بمباری اور جنگ میں امریکی شمولیت کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو جنگ میں دھکیلنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، جیسا کہ امریکی آئین میں واضح طور پر درج ہے، اور صدر کے پاس یہ اختیار نہیں۔
اتوار کی صبح، امریکا نے اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں عملی طور پر شمولیت اختیار کر لی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کی تین اہم ترین جوہری تنصیبات — فوردو، نطنز اور اصفہان — پر “انتہائی کامیاب” حملہ کیا گیا ہے۔



