اردو ادب کا درخشندہ ستارہ
علمی، ادبی، تحقیقی و سماجی خدمات کا روشن سفر
محمد ناظم علی، ایک ممتاز علمی اور ادبی شخصیت کے طور پر نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے اردو علمی حلقے میں ایک معروف نام ہیں۔ آپ کی ولادت 11 جنوری 1958ء کو شہر محمود آباد (دڑکی)، ضلع نظام آباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم بھی اپنے آبائی علاقے نظام آباد میں حاصل کی۔ علم و ادب سے گہری دلچسپی کے باعث آپ نے اعلیٰ تعلیم کی جانب مسلسل پیش قدمی جاری رکھی۔
آپ نے ایم اے، ایم فل کی ڈگریاں یونیورسٹی آف حیدرآباد سے 1985ء میں حاصل کیں جبکہ پی ایچ ڈی کی سند 2008ء میں جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی۔ علمی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند کے تحت نئی دہلی میں 1986ء میں NET، JRF کے لیے منتخب ہوئے جو ان کی علمی گہرائی اور تحقیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پیشہ ورانہ خدمات
محمد ناظم علی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز مدھو مالنچہ ڈگری کالج، بلال شکر نگر میں جز وقتی لکچرار کے طور پر 1985ء میں کیا اور 1987ء تک تدریس کے فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں آپ کا تقرر APPSC کے تحت 1987ء میں ناگرجنا گورنمنٹ کالج، نلگنڈہ میں بطور مستقل لکچرار ہوا، جہاں آپ نے 1991ء تک خدمات انجام دیں۔
1991ء میں آپ کا تبادلہ گری راج گورنمنٹ کالج، نظام آباد میں ہوا، جہاں آپ نے 2010ء تک تدریسی و تعلیمی خدمات انجام دیں۔ طویل اور کامیاب تدریسی سفر کے بعد 28 جولائی 2010ء کو آپ کو ترقی دے کر گورنمنٹ ڈگری کالج، موڑتاد کے پرنسپل کے عہدہ پر فائز کیا گیا، جہاں آپ نے 2016ء تک خدمات انجام دیں۔
ادبی، علمی اور سماجی خدمات
محمد ناظم علی کی شخصیت محض ایک تدریسی فرد کی حیثیت سے محدود نہیں بلکہ آپ نے ادبی اور سماجی میدانوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ مطالعہ اور درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے مختلف ادبی، سماجی اور علمی موضوعات پر متعدد مضامین تحریر کیے، جن میں سے کئی ریاستی اور بین الاقوامی سطح پر منعقدہ سیمیناروں میں پیش کیے گئے۔
آپ کی علمی قابلیت اور تجربے کے پیش نظر آپ کو کئی اہم تعلیمی اداروں اور کمیٹیوں میں Subject Expert کے طور پر مدعو کیا گیا۔ 1993ء اور 1997ء میں آپ نے ضلع نظام آباد میں DSC کے لیے Subject Expert کے طور پر خدمات انجام دیں۔ علاوہ ازیں، 2013ء میں APPSC کی جانب سے Degree College Lecturers کے انٹرویوز میں بھی Subject Expert کے طور پر شرکت کی۔
تصانیف و مطبوعات
ڈاکٹر محمد ناظم علی اردو ادب کے ممتاز محقق، نقاد اور صاحبِ طرز مصنف ہیں جنہوں نے اردو تنقید، تحقیق، تبصرہ، رپورتاژ اور رسائل و جرائد کے مطالعے پر گراں قدر تصانیف پیش کی ہیں۔ اب تک ان کی چودہ (14) کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جب کہ ایک اہم تصنیف زیرِ طبع ہے۔ ان کی تصانیف میں فکری گہرائی، ادبی بصیرت اور تنقیدی شعور نمایاں ہے۔ ان کی مطبوعات درج ذیل ہیں:
1۔آئینۂ عصر (2005ء)
معاصر ادب اور سماجی رویوں پر مبنی تنقیدی مضامین کا مجموعہ۔
2۔روحِ عصر (دسمبر 2006ء)
جدید فکری رجحانات پر مبنی مضامین اور تجزیے۔
3۔عکسِ ادب (دسمبر 2007ء)
ادبی مطالعہ اور شخصی خاکے، تنقیدی اسلوب میں۔
4۔حیدرآباد کے ادبی رسائل: آزادی کے بعد (دسمبر 2010ء)
تحقیق و تنقید پر مشتمل اہم کتاب، حیدرآباد کے ادبی منظرنامے پر جامع جائزہ۔
5۔پروفیسر آلِ احمد سرور: فکر و فن (2012ء)
اردو تنقید کے ممتاز نقاد پر تحقیقی و تنقیدی کتاب۔
6۔ادبی بصیرت (2014ء)
تنقیدی شعور اور بصیرت افروز تجزیوں پر مبنی اہم مجموعہ۔
7۔تنقیدی فکر (جولائی 2015ء)
ادب کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ اور فکر انگیز مضامین۔
8۔افکارِ جدید (2016ء)
جدید ادبی و فکری رجحانات پر عالمانہ گفتگو۔
9۔نقش ہیں سب ناتمام (2017ء)
ادبی شخصیات اور ان کے نامکمل خوابوں کی عکاسی۔
10۔ادبی و تہذیبی رپورتاژ (2018ء)
ادبی و ثقافتی تقریبات اور سرگرمیوں پر مبنی رپورتاژ۔
11۔ادبی منظر (2019ء-2020ء)
اردو ادب کا موجودہ منظرنامہ، تنقیدی و تحقیقی زاویے سے۔
12۔ادبی تبصرے (2020ء)
منتخب کتابوں پر مبنی تجزیاتی اور تنقیدی تبصرے۔
13۔ادبی رسائل کا جائزہ (2022ء)
اردو رسائل کے ارتقائی سفر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔
14۔حیدرآباد کے ادبی رسائل کا پہلا شمارہ (زیرِ اشاعت، 2024ء)
تاریخی نوعیت کی تحقیقی کتاب، ہر رسالے کے اولین شمارے کا تنقیدی مطالعہ۔
ڈاکٹر محمد ناظم علی کی یہ علمی و ادبی خدمات اردو تنقید و تحقیق میں ایک اہم اضافہ ہیں۔ ان کی تصانیف نہ صرف طلبہ و محققین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے بھی فکری تغذیہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی کتابیں جدید اور کلاسیکی تنقیدی رویوں کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں اور اردو کے ادبی سرمایے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہیں۔
علمی و ادبی اداروں سے وابستگی
ڈاکٹر محمد ناظم علی نے اپنی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کے ذریعے متعدد اہم اداروں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ آپ کی علمی بصیرت، ادبی فہم اور سماجی شعور کے باعث متعدد قومی، ریاستی اور مقامی اداروں نے آپ کو مختلف حیثیتوں میں اپنا رکن، سرپرست یا مشیر مقرر کیا۔ ان کی وابستگیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔اکیڈیمک سینیٹ ممبر، تلنگانہ یونیورسٹی، نظام آباد
(مدت: 2013ء تا 2016ء)
پالیسی سازی، نصاب سازی اور جامعہ کے علمی امور میں فعال شرکت۔
2۔بانی: انجمنِ محبانِ اردو، شکر نگر
اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک فعال پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی۔
3۔سرپرستِ اعلیٰ: اردو اسکالرز اسوسی ایشن، نظام آباد
نوجوان محققین و اساتذہ کی رہنمائی اور علمی تربیت۔
4۔دائمی رکن: آل انڈیا ایجوکیشنل مسلم کانفرنس، آندھرا پردیش و تلنگانہ
اقلیتی تعلیم کے فروغ میں متحرک کردار۔
5۔ممبر: سادات ایجوکیشن ویلفیئر سوسائٹی، حیدرآباد
تعلیمی منصوبہ بندی اور ویلفیئر اقدامات میں شرکت۔
6۔نائب صدر: مینار ایمپلائز کوآرڈینیشن اینڈ بیلٹی اسوسی ایشن، حیدرآباد‘ تعلیمی ملازمین کے مسائل کے حل اور بہبود کے لیے جدوجہد۔
7۔ممبر: مائنارٹیز ڈیولپمنٹ فورم، روزنامہ ’’سیاست‘‘دو بہ دو پروگرام، حیدرآباد‘ اقلیتی لڑکیوں ولڑکیوں کے رشتہ جوڑ نے کے مقصد سے چلایا جارہا ہے۔
8۔نائب صدر: بزمِ علم و ادب، حیدرآباد‘
ادبی تقاریب، مشاعروں اور سیمیناروں کی سرپرستی۔
9۔صدر: خواجہ علی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی
تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ فلاحی سرگرمیوں کا فروغ۔
10۔نائب صدر: بزم کہکشاں (شاخ حیدرآباد)
نوجوان شعرا و ادبا کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی۔
11۔صدر: تنظیم برائے مسلم مجاہدینِ آزادی، تلنگانہ
تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار کو اجاگر کرنے والا ادارہ۔
12۔نائب صدر: بزمِ جوہر اکیڈمی
علمی و ادبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی و ترویج۔
13۔ممبر: تلنگانہ ایلڈرز فورم
تجربہ کار علمی و سماجی شخصیات پر مشتمل مشاورتی پلیٹ فارم۔
14۔دائمی رکن: نظامس ٹرسٹ لائبریری، حیدرآباد
تاریخی اور علمی ذخائر سے وابستگی اور لائبریری کے فروغ میں حصہ۔
ممبر مجلس مشاورت و ادارت:
ماہنامہ صدائے شبلی
علمی جریدے میں مشاورتی و تدوینی خدمات۔
ماہنامہ تاریخِ دکن (جرنل)
تاریخ، ادب اور تحقیق پر مبنی جریدے میں علمی خدمات۔
ادبی و سماجی مکالمہ:
منصف چینل ’’نقطہ نظر‘‘ پروگرام تقریباً 20 سے زائد پروگراموں میں شرکت، مختلف ادبی اور سماجی موضوعات پر اظہارِ خیال
ممبر: بک سلیکشن کمیٹی، آصفہ لائبریری، حیدرآباد
اہم کتب کی جانچ اور انتخاب میں خدمات۔
ممبر: اردو اکیڈیمی ’’بیسٹ ٹیچر ایوارڈ‘‘ سلیکشن کمیٹی، آندھرا پردیش‘
ڈاکٹر محمد ناظم علی کی علمی و ادبی اداروں سے وابستگی نہ صرف ان کی شخصیت کی ہمہ گیری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ ان کی علمی، سماجی اور ادبی خدمات کا جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔ وہ جہاں بھی وابستہ رہے، وہاں اپنی فکری رہنمائی، مثبت کردار اور سنجیدہ نظریات سے ادارے کی ترقی میں حصہ لیا۔
اعزازات و انعامات
ڈاکٹر محمد ناظم علی کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کو ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اداروں اور حکومتوں کی جانب سے کئی اہم اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ان کی خدمات کا دائرہ تعلیم، تحقیق، تنقید، فاصلاتی تعلیم اور ادبی ترقی جیسے مختلف میدانوں پر محیط ہے۔ ذیل میں ان کے اہم اعزازات و انعامات کی فہرست پیش ہے:
بیسٹ ٹیچر ایوارڈ (1991ء)
ریاستی اردو اکیڈیمی، آندھرا پردیش کی جانب سے تدریسی خدمات کے اعتراف میں۔
اسٹیٹ میری ٹوریس ٹیچر ایوارڈ (2009ء)
منجانب کمشنریٹ آف کالجیٹ ایجوکیشن، حکومت آندھرا پردیش، بھارت وِدیا شرومنی ایوارڈ (2011ء)
انڈین سالیڈیرٹی کونسل، نئی دہلی کی جانب سے علمی خدمات پر۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ (2013ء)
بزمِ علم و ادب، حیدرآباد کی طرف سے اردو زبان و ادب کی ترویج پر۔
ادبی و تعلیمی خدمات ایوارڈ (2014ء)
محکمہ اقلیتی بہبود، ضلع نظام آباد کی طرف سے۔
گونج ایوارڈ (2015ء)
ادبی، سماجی اور تعلیمی خدمات پر ادارہ’’گونج‘‘ کی جانب سے
کارنامۂ حیات ایوارڈ برائے تنقید و تحقیق (2015ء)
پروفیسرڈاکٹرمحی الدین قادری زور کی یاد میں، ریاستی تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے۔
بیسٹ ادبی شخصیت ایوارڈ (2 جون 2017ء)
ریاست تلنگانہ کے یومِ تاسیس کے موقع پر، حکومت تلنگانہ کی جانب سے، بدست وزیر زراعت مسٹر پوچارم سرینواس ریڈی۔
’’ناظمِ دکن‘‘ خطاب و ایوارڈ(2018)
ادارہ صادق کی جانب سے ادبی قیادت اور خدمات پر۔
تعلیمی کونسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (2020ء)
فاصلاتی تعلیم میں تعلیمی رہنمائی پر تقرری۔
تعلیمی کونسلر، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی (1998ء تا 2010ء)
– اردو کے طلبہ کو فکری و تدریسی رہنمائی۔
تعلیمی کونسلر، پروفیسر جی رام ریڈی فاصلاتی تعلیم مرکز، جامعہ عثمانیہ (2017ء تا 2024ء) طویل مدت تک اعلیٰ تعلیمی خدمات کی فراہمی۔
اردو رتن ایوارڈ (2025ء)
آل انڈیا اردو ماس سوسائٹی فار پیس کی جانب سے اردو زبان و ادب کے فروغ پر۔
ڈاکٹر محمد ناظم علی کی خدمات کو مختلف اداروں نے محض رسمی انداز میں نہیں بلکہ ان کی عملی، فکری اور تدریسی کاوشوں کے اعتراف کے طور پر سراہا۔ ان کے اعزازات نہ صرف ان کی انفرادی کامیابی کا مظہر ہیں بلکہ اردو زبان و ادب اور تعلیم کے شعبے میں ان کی بے مثال خدمات کی روشن گواہی بھی ہیں۔
رسائل میں شائع ہونے والے گوشے
ڈاکٹر محمد ناظم علی کی علمی، ادبی، تدریسی اور سماجی خدمات کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف معیاری اردو رسائل نے خصوصی گوشے اور نمبر شائع کیے ہیں، جو ان کی علمی و ادبی حیثیت کا بین ثبوت ہیں۔ ان گوشوں میں ان کی شخصیت، فکر، تخلیقی جہات اور خدمات کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ کیا گیا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ درج ذیل اہم رسائل نے ڈاکٹر ناظم علی پر خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا:
1۔ ماہنامہ’’شاعر‘‘، ممبئی اپریل 2017ء(جلد نمبر: 2شمارہ: 87)
اردو دنیا کا معتبر و معیاری ادبی رسالہ’’شاعر‘‘، جو دہائیوں سے اردو ادب کی خدمت میں مصروف ہے، نے اپریل 2017ء کے شمارے کو ڈاکٹر محمد ناظم علی نمبر کے طور پر شائع کیا۔
یہ شمارہ اُن کی تنقیدی بصیرت، ادبی خدمات، تحقیقی سرگرمیوں اور سماجی شعور کو بھرپور انداز میں پیش کرتا ہے۔ ممتاز ناقدین، محققین اور ادبا نے اس گوشے میں ان کی خدمات کا جائزہ لیا۔
2۔ ماہنامہ ’’گنج‘‘، نظام آباد۔ مئی 2014ء(جلد نمبر: 43شمارہ: 17 تا 20)
3۔ادبی رسالہ ’’گنج‘‘، جو نظام آباد سے شائع ہوتا ہے، نے مئی 2014ء کے شمارے میں گوشۂ ڈاکٹر محمد ناظم علی کو شامل کیا۔
اس گوشے میں ڈاکٹر ناظم علی کی ادبی خدمات، شعری و تنقیدی تحریروں، شخصی خاکوں اور مختلف گوشہ ہائے فکر پر روشنی ڈالی گئی۔
3۔’’تاریخ دکن‘‘ جرنل خصوصی شمارہ (زیرِ اشاعت، 2025ء)
معروف تحقیقی مجلّہ ’’تاریخ دکن‘‘، جو جنوبی ہند میں علمی و تاریخی موضوعات کے حوالے سے معتبر حیثیت رکھتا ہے، سال 2025ء میں ڈاکٹر محمد ناظم علی کی عالمی، علمی، ادبی و سماجی خدمات پر مبنی ایک خصوصی شمارہ شائع کرنے جا رہا ہے۔
یہ مجلہ ان کی فکری جہات، علمی اثرات، تدریسی خدمات، اور اردو ادب میں ان کی نمایاں شراکت پر مبنی ہوگا، جس میں ممتاز محققین، اساتذہ اور ادبی شخصیات کے مضامین شامل ہوں گے۔
معتبر ادبی رسائل کی جانب سے ڈاکٹر محمد ناظم علی پر گوشوں اور نمبروں کی اشاعت نہ صرف ان کی علمی عظمت کا اعتراف ہے بلکہ اردو دنیا میں ان کی مقبولیت اور اثر انگیزی کی مظہر بھی ہے۔ یہ گوشے نہ صرف ایک ادبی خراجِ تحسین ہیں بلکہ محققین، طلبا اور ادب دوست قارئین کے لیے معلوماتی و تحقیقی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد ناظم علی کے خطابات و لیکچرز
ڈاکٹر محمد ناظم علی کی شخصیت محض ایک معلم یا محقق کی حد تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک ممتاز خطیب، فکری و ادبی مقرر اور اردو زبان و تہذیب کے فعال ترجمان بھی ہیں۔ ان کے لیکچرز کا دائرہ وسیع ہے، جو ادب، تاریخ، مذہب، فلسفہ، اور خصوصاً اقبالیات جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ انہوں نے ملک کی مختلف جامعات، علمی اداروں، ادبی انجمنوں اور عوامی پلیٹ فارمز پر متعدد لیکچرز دیے، جو علمی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
اقبالیات پر خصوصی خطابات
ڈاکٹر ناظم علی کا شمار اُن اہلِ علم میں ہوتا ہے جنہوں نے علامہ اقبال کی فکر و فلسفہ کو نہ صرف سمجھا بلکہ اُسے عام فہم اور علمی انداز میں نئی نسل تک منتقل بھی کیا۔
انہوں نے اقبال اکیڈیمی، حیدرآباد میں بارہا خصوصی لیکچرز دیے، جن میں علامہ اقبال کی شخصیت، فلسفۂ خودی، ملت اسلامیہ کا تصور، اور شاعری کے فکری پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کے نمایاں لیکچرز درج ذیل موضوعات پر مشتمل تھے:
شکوہ و جوابِ شکوہ ‘خوابِ بہ نوجوانِ اسلامنی‘ناشوالہ ‘شمع اور شاعر‘طلوعِ اسلام، مسجد قرطبہ، اور ساقی نامہ جیسے شاہکار نظموں کا تنقیدی و فکری تجزیہ
ڈاکٹر ناظم علی کے یہ خطابات علامہ اقبال کی شاعری میں موجود وحدتِ ملت، روحِ بیداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور خودی کے تصور کو نہایت عمدگی سے اجاگر کرتے ہیں۔
مذہبی، فکری و تاریخی خطابات
اقبالیات کے علاوہ ڈاکٹر ناظم علی نے ’’مسجدِ عالیہ‘‘ (حیدرآباد) میں مختلف مذہبی، فکری اور تاریخی موضوعات پر بھی وقیع خطابات کیے ہیں۔ ان موضوعات میں شامل ہیں:
شریعت کی حکمت و مقاصد‘اسلام کا تصورِ علم‘اقبال شناسی اور عصرِ حاضرتاریخِ اسلام کے اہم ابواب اور مسلم زوال کے اسبابیہ خطابات علمی استدلال، تاریخی حوالوں، اور معاصر فکر کے تناظر میں پیش کیے جاتے ہیں، جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
جامعات و علمی مراکز میں تحقیقی خطابات
ڈاکٹر ناظم علی نے ملک کی مختلف اعلیٰ تعلیمی جامعات میں تحقیق پر مبنی لیکچرز اور ریسرچ پیپرز پیش کیے جن میں نمایاں ادارے شامل ہیں:مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (حیدرآباد)
اردو تحقیق و تنقید، نصاب سازی، اور اقبالیات پر لیکچرز
حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی
اردو ادب میں جدید تنقیدی رویّے اور تحقیق کے رجحانات
جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد
فاصلاتی تعلیم، تنقیدی فکر اور اردو تدریس پر تبادلہ خیال
کوٹھی ویمنز یونیورسٹی (ویمنز کالج، عثمانیہ)
خواتین اور اردو ادب، تعلیم نسواں، اور ادبی شعور پر خطابات
وہ حیدرآباد شہر کے مختلف ادبی فورمز، انجمنوں، اور سیمیناروں میں مسلسل مدعو کیے جاتے ہیں۔ ان کے خطابات میں درج ذیل نمایاں خصوصیات دیکھی گئی ہیں:زبان کی شستگی، استدلال کی گہرائی اور مثالوں کی برجستگیسامعین سے علمی مکالمہ اور فکری بیداری نوجوانوں میں مطالعہ، تحقیق اور زبان سے محبت پیدا کرنے کی سعیان تقریبات میں محبانِ اردو، طلبہ، اساتذہ، اور عام سامعین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے لیکچرز سے علمی فیض حاصل کرتے ہیں۔
ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری 9160297283

