نلّور، آندھرا پردیش – وائی ایس آر کانگریس پارٹی (YSRCP) کے اہم رہنما اور سابق وزیر کاکانی گووردھن ریڈی ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ ان پر دورانِ اقتدار کروڑوں روپے کی غیر قانونی وصولیوں، سرکاری اختیارات کے غلط استعمال، اور مقامی صنعت و تجارت کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جب کاکانی گووردھن ریڈی اقتدار میں تھے، تب اُنہوں نے نلّور ضلع میں واقع کرشن پٹنم پورٹ میں ایک غیر مجاز ٹول گیٹ قائم کیا۔ اس گیٹ کے ذریعے کنٹینر ٹرکوں سے فی گاڑی ₹10,000 سے ₹20,000 تک کی غیر قانونی وصولی کی جاتی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس عمل کے تحت تقریباً ₹44 کروڑ روپے کی غیر قانونی لین دین ہوئی۔
صنعتی کمپنیوں کی منتقلی اور ہزاروں کو بے روزگاری
غیر قانونی ٹول فیس اور لاگت میں اچانک اضافے کے سبب تقریباً 60 برآمداتی کمپنیاں کرشن پٹنم پورٹ کو چھوڑ کر چنئی پورٹ منتقل ہو گئیں، جس کی وجہ سے پورٹ سے منسلک تقریباً 20,000 افراد بے روزگار ہو گئے۔ متاثرہ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کاکانی کے زیر اثر قائم کردہ کرشن پٹنم لاجسٹکس کمپنی کے ذریعے یہ سب کارروائیاں انجام دی گئیں۔
ٹرانسپورٹر کی شکایت پر مقدمہ درج
متاثرہ ٹرانسپورٹر شیخ فرید نے متمکن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ وائی ایس آر کانگریس کے رہنماؤں کی سرپرستی میں اس جیسے سینکڑوں ٹرانسپورٹرز کو دیوالیہ کر دیا گیا۔ فرید کی شکایت پر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور اس کے نتیجے میں سابق وزیر کاکانی گووردھن ریڈی کو مرکزی ملزم (A-1) نامزد کرتے ہوئے اُن سمیت دس دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ماضی میں بھی الزامات کا سامنا
یہ پہلا موقع نہیں جب کاکانی گووردھن ریڈی قانونی شکنجے میں آئے ہوں۔ اُن پر پہلے بھی کوارٹز اور گریول کی غیر قانونی کانکنی، فرضی تصاویر (مارفنگ)، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔
سیاسی تبدیلی کے بعد کارروائی کا آغاز
ریاست میں تلگو دیشم پارٹی (TDP) کی زیر قیادت نئی حکومت کے قیام اور وائی ایس آر کانگریس کی شکست کے بعد ان غیر قانونی سرگرمیوں کی چھان بین تیزی سے شروع ہوئی۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔



