خبریںریاستی

چیف منسٹر بھی وزیر اعظم کے نقش قدم پر: سُلطان قادری فاؤنڈر ممبر بی آر یس کا بیان

حیدرآباد، ممتاز شاعر،ادیب،سیاستداں،مذہبی رہنما و سینئر فاؤنڈر ممبر بی آر یس پارٹی سُلطان قادری نے ریاستی کابینہ میں مسلم نمائندہ کی عدم شُمولیت پر اپنے شدید رنج و ملال کا اظہار کیا ہے! ایک طویل صحافتی بیان میں موصوف نے یاد دلایا ہے کہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں پچھلے ساٹھ سال سے زائد عرصہ میں ریاستی کابینہ میں معقول مسلم نمائندگی ہوا کرتی تھی! متحدہ آندھرا پردیش میں ڈاکٹر نیلم سنجیوا ریڈی،کاسو برہمانند ریڈی،پی وی نرسمہا راؤ،جلگم وینگل راؤ،،ڈاکٹر یم چنا ریڈی،ٹی انجیا،بھونم وینکٹ رام، وجئے بھاسکر ریڈی، تلگو دیشم پارٹی کے سربراہ ین ٹی راما راؤ اور ین چندرا بابو نائئیڈو، کانگریس کے ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی، کرن کمار ریڈی،کے روسیا کی کابینہ میں بھی تین مسلم وزرا ہوا کرتے تھے!علحٰدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد گزشتہ دس سال کے دوران ٹی آر یس پارٹی کے سربراہ نے جناب محمود علی کو تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر کے طور پر دو مرتبہ اپنی کابینہ میں شامل کیا! لیکن افسوس کہ خود کو سیکولر پارٹی کہنے والی جماعت کُل ہند کانگریس کمیٹی نے اپنی حُکومت میں ایک بھی مسلم وزیر کا تقرر نہ کرتے ہوئے ریاست میں مُقیم لگ بھگ ایک کروڑ مُسلمانوں کی دل آزاری کی مرتکب ہوئی ہے! پارٹی ہائی کمان اور ریاستی قیادت نے پارٹی کو دس سال کے وقفہ کے بعد برسر اقتدار لانے والے مُسلمانوں کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی مرکز میں وزیر اعظم کے نقش قدم چلتے ہوئے حکومت چلائیں گے! جناب سلطان قادری نے ریاستی چیف منسٹر کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پارٹی کے اسکول،دوسری پارٹی کے کالج میں تعلیم حاصل کئے اور اب ایک پارٹی میں ملازمت کر رہے ہیں،کہا کہ ان کی اقلیت دُشمنی اب کُھل کر سامنے آ گئی ہے!اُنہوں نے پارٹی کے سینئر اقلیتی قائدین کی سرد مہری پر بھی بہت رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ ریڈی، یس سی،یس ٹی اور بی سی طبقہ کے رہنماؤں کی طرح متحد ہو کر اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کریں اور پارٹی ہائی کمان کے پاس اپنا شدید احتجاج درج کروائیں ورنہ اُن کا پارٹی میں کوئی مقام یا مرتبہ باقی نہیں رہے گا!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button