خبریںریاستی

محمد اسدالدین تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری مقرر

پارٹی ہائی کمان کی جانب سے نوجوان قیادت کو ترجیح، اسدالدین کی سیاسی اننگ کا باقاعدہ آغاز
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے تنظیمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ریاستی سطح پر کئی نئے چہروں کو ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اس سلسلے میں معروف سابق کرکٹر اور کانگریس کے سرگرم رہنما محمد اظہرالدین کے صاحبزادے، محمد اسدالدین کو تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (TPCC) کا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق، 27 نائب صدور اور 69 جنرل سکریٹریز کے تقرر کو عمل میں لایا گیا ہے، جس میں نوجوانوں، وفادار کارکنوں، اور زمینی سطح پر کام کرنے والے افراد کو ترجیح دی گئی ہے۔

محمد اسدالدین کی شمولیت کو پارٹی میں نوجوان قیادت کی نمائندگی اور سیاسی جدوجہد کی نئی لہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ان کا پہلا باقاعدہ سیاسی عہدہ ہے، لیکن وہ پچھلے چند برسوں سے اپنے والد کی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے آئے ہیں، خاص طور پر حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران۔ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے محمد اظہرالدین نے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا، جہاں اگرچہ انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی، لیکن انتخابی مہم کے دوران محمد اسدالدین کی غیرمعمولی فعالیت اور عوام سے مسلسل رابطے نے انہیں سیاسی حلقوں میں ایک ابھرتے ہوئے رہنما کے طور پر نمایاں کر دیا۔

اس وقت سے ہی یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ محمد اسدالدین جلد یا بدیر سیاست میں باقاعدہ طور پر قدم رکھیں گے، اور اب کانگریس ہائی کمان کے اس فیصلے نے ان قیاس آرائیوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس تقرری کو سیاسی بصیرت، زمینی سطع پر متحرک کردار، اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ محمد اسدالدین نہ صرف ایک سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ وہ جدید سیاسی رویوں، تعلیم یافتہ پس منظر، اور نوجوان نسل سے جڑے مسائل کی بہتر تفہیم رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ پارٹی کو شہری علاقوں، خصوصاً نوجوان ووٹروں میں نئی توانائی اور مقبولیت حاصل ہو گی۔

تلنگانہ میں کانگریس پارٹی اس وقت کئی محاذوں پر سرگرم عمل ہے، اور آنے والے بلدیاتی و پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں تنظیمی سطح پر اس قسم کی تقرریاں پارٹی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش تصور کی جا رہی ہیں۔ محمد اسدالدین کی شمولیت جہاں پارٹی کے لیے ایک تازہ دم جذبہ لائے گی، وہیں ان کے کندھوں پر نئی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی آن پڑا ہے — اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی اننگ کو کس مہارت سے آگے بڑھاتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button