سرخ پرچم: انتقام، مظلومیت اور شہادت کی علامت
2023 – اسماعیل ہنیہ کے اہل خانہ کی شہادت کے بعد:
فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے بعض قریبی رشتہ داروں کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد، ایک بار پھر سرخ پرچم تہران میں بھی بلند کیا گیا، جو اسرائیل کے خلاف یکجہتی اور انتقام کا اعلان تھا۔
حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد قم میں مسجد جمکران پر سرخ پرچم بلند
اسرائیل کی جانب سے جمعے کی اولین ساعتوں میں ایران کی جوہری تنصیبات پر وسیع حملے کے بعد، جس میں متعدد ایرانی فوجی کمانڈر اور ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے، ایران کے مقدس شہر قم میں واقع مسجد جمکران کے گنبد پر “سرخ پرچم” لہرایا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے مسجد کے صحن میں درجنوں افراد کی موجودگی کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں، جو اس پرچم کشائی کے بعد وہاں جمع ہوئے۔
سرخ پرچم کی دینی علامت کیا ہے؟
شیعہ فقہ اور اسلامی روایت میں سرخ پرچم شہادت، مظلومیت اور انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ پرچم اس وقت بلند کیا جاتا ہے جب:
- کسی مظلوم کے خون کا انتقام ابھی باقی ہو
- جنگ یا جہاد کا پیغام دینا ہو
- قوم کو کسی بڑی قربانی یا مزاحمت کے لیے تیار کرنا ہو
تاریخی طور پر کربلا کے واقعے کے بعد سے، سرخ پرچم حضرت امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی مظلومانہ شہادت کی یاد میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس کا مطلب ہوتا ہے کہ “انتقام ابھی مکمل نہیں ہوا۔”
ماضی میں کب کب بلند ہوا؟
- جنوری 2020 – قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد:
جب ایران کے قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا، تو مسجد جمکران پر پہلی بار سرخ پرچم بلند کیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی اور طاقتور علامت تھی کہ ایران اس شہادت کا جواب دے گا۔ - 2023 – اسماعیل ہنیہ کے اہل خانہ کی شہادت کے بعد:
فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے بعض قریبی رشتہ داروں کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد، ایک بار پھر سرخ پرچم تہران میں بھی بلند کیا گیا، جو اسرائیل کے خلاف یکجہتی اور انتقام کا اعلان تھا۔ - جون 2025 – حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد:
ایران کے جوہری و عسکری ماہرین کی شہادت کے بعد مسجد جمکران پر دوبارہ سرخ پرچم بلند کیا گیا، جو ایک مرتبہ پھر “انتقام قریب ہے” کا عندیہ دیتا ہے۔
نتیجہ
سرخ پرچم صرف ایک علامتی عمل نہیں، بلکہ شیعہ انقلابی روایت کا ایک گہرا پیغام ہے:
یہ پیغام ہے مزاحمت کا، شہادت کی یاد کا، اور دشمن کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا۔
موجودہ حالات میں اس پرچم کا بلند ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اپنے شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گا، اور یہ عمل قوم و ملت کو ایک بڑے فیصلہ کن مرحلے کے لیے تیار کرنے کا ایک دینی، انقلابی اور سیاسی پیغام ہے۔




