جب غزہ خون رو رہا ہے اور عرب المليحات مٹایا جا رہا ہے، مسلم دنیا کہاں ہے؟
کیا فلسطینیوں کا خون سستا ہے؟ کیا مسلمانوں کی عزت و ناموس صرف دعاؤں اور قراردادوں سے بچائی جا سکتی ہے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم صرف زبانی جمع خرچ چھوڑ کر عملی مزاحمت کی راہ اپنائیں؟یہ تاریخ کا نازک ترین لمحہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ مسلم دنیا متحد ہو، او آئی سی کو ایک فعال ادارہ بنایا جائے، اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہو، اسرائیلی سفیروں کو نکالا جائے، اور فلسطینی عوام کی مدد کے لیے امدادی قافلوں اور سیاسی دباؤ کا منظم سلسلہ شروع کیا جائے۔ورنہ کل جب تاریخ لکھی جائے گی، تو اسرائیل، امریکا اور یورپ کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی خاموشی کو بھی جرم کے خانے میں لکھا جائے گا۔ اور یہ جرم ایسا ہوگا جسے نہ وقت معاف کرے گا، نہ نسلیں۔
فلسطین جل رہا ہے، غزہ خون رو رہا ہے، اور عرب المليحات صفحۂ ہستی سے مٹایا جا رہا ہے۔ ایک طرف اسرائیل کی درندگی ہے جو امریکی پشت پناہی سے ہر حد پار کر چکی ہے، اور دوسری طرف وہ مسلم دنیا ہے جس کی خاموشی لمحہ بہ لمحہ اس المیے کو مزید سنگین بناتی جا رہی ہے۔حالیہ دنوں میں یورپی یونین کے سابق اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی، جوزیپ بوریل نے وہ انکشاف کیا ہے جس نے اسرائیلی جرائم کی سنگینی کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ غزہ میں صرف ایک ماہ کے دوران 550 فلسطینی، جو خوراک کی تلاش میں امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ امدادی مراکز پر گئے،’’امریکی کرائے کے قاتلوں‘‘ کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے۔ یہ الفاظ کسی عام سیاسی مبصر کے نہیں بلکہ یورپ کے صفِ اوّل کے سفارت کار کے ہیں، جو خود یورپی نظام کا نمائندہ رہ چکا ہے۔جوزیپ بوریل نے صرف اسرائیل اور امریکہ پر انگلی نہیں اٹھائی، بلکہ یورپی یونین کی قیادت پر بھی شدید تنقید کی، اور کھلے لفظوں میں کہا کہ یورپی کونسل اور یورپی کمیشن ان جرائم پر خاموش ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ’’یورپی ادارے حرکت میں آنے کے بجائے خاموشی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں‘‘دراصل اس منافقانہ طرزِ عمل کی نشاندہی ہے جو یورپ انسانی حقوق کے دعووں کے باوجود فلسطین کے معاملے میں اختیار کیے ہوئے ہے۔بوریل کی مذمت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ یورپی یونین کے اندرونی خلفشار اور پالیسی کی تقسیم کو عیاں کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی مدتِ ملازمت کے دوران بارہا اسرائیلی بربریت کی مذمت کی، جنگ بندی کی اپیلیں کیں، اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈر لائین پر شدید تنقید کی، جنہوں نے اسرائیل کے جنگی جرائم پر چشم پوشی اختیار کی اور تل ابیب کی کھلی حمایت کی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یورپ کے اندر سے بھی کچھ ضمیر زندہ ہیں، تو مسلم دنیا میں یہ ضمیر کیوں مردہ ہو چکے ہیں؟
جب ایک مغربی سیاستدان کھلے عام یہ کہہ رہا ہے کہ فلسطینیوں کو خوراک کی تلاش میں قتل کیا جا رہا ہے، اور امدادی مراکز’’موت کے پھندے‘‘بن چکے ہیں، تب مسلم ممالک کی خاموشی کسی مجبوری یا حکمت نہیں بلکہ مجرمانہ بے حسی کی دلیل بن چکی ہے۔دوسری طرف مغربی کنارے میں عرب المليحات جیسا مقام، جو کئی دہائیوں سے بدوی فلسطینیوں کا گھر ہے، اسرائیلی آباد کاروں اور فوج کے مشترکہ حملوں کی زد میں ہے۔ وہاں کے مقامی باشندے اپنے خیمے، اپنے مویشی، اپنے کھیت چھوڑ کر محض اس لیے جا رہے ہیں کہ مسلح آباد کار ان کے گھروں پر قبضہ کر رہے ہیں، ان کے چارے لوٹ رہے ہیں، اور ان کے مکانوں میں بیٹھ کر جشن منا رہے ہیں۔یہ محض زمین پر قبضہ نہیں، بلکہ ایک مکمل نسلی تطہیر (ethnic cleansing) ہے جو دنیا کی آنکھوں کے سامنے انجام پا رہی ہے۔ حسن مليحات، جو فلسطینی بدوی حقوق کے ایک سرگرم کارکن ہیں، نے صاف کہا ہے کہ یہ حالات عرب المليحات کے مکمل خاتمے کی طرف جا رہے ہیں، اور اسرائیل کا منصوبہ صاف ہے: فلسطینیوں کو ان کی زمین سے نکالو، ان کی بستیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دو، اور وہاں صہیونی آبادیاں قائم کرو۔اگر آج عرب المليحات مٹایا جاتا ہے، تو کل وادی اردن کے باقی دیہات مٹیں گے۔ یہ صرف ایک گاؤں کی کہانی نہیں، یہ پورے فلسطین کے وجود کے خاتمے کا منصوبہ ہے۔اب سوال یہ نہیں رہا کہ اسرائیل کیا کر رہا ہے، یا امریکا کیسے مدد کر رہا ہے، یا یورپی یونین کیوں خاموش ہے۔ یہ سب باتیں اب واضح ہو چکی ہیں۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ مسلم دنیا کیا کر رہی ہے؟پچاس سے زائد مسلم ممالک، جن کے پاس تیل ہے، فوج ہے، دولت ہے، اور عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی ہے، وہ فلسطینیوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟او آئی سی، جس کا مقصد ہی اسلامی دنیا کے مسائل پر مشترکہ موقف اختیار کرنا ہے، کیا اب صرف اجلاس، تصویریں اور بیانات جاری کرنے کی مشین بن چکی ہے؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ او آئی سی اپنی حیثیت کو صرف رسمی اجلاسوں سے نکال کر عملی اقدامات میں تبدیل کرے؟اور ایران، جو خود کو’’مزاحمتی بلاک‘‘ کا علمبردار کہتا ہے، جو حزب اللہ اور دیگر گروہوں کی حمایت کرتا ہے، وہ براہ راست فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے کیوں نہیں آگے بڑھ رہا؟ کیا فلسطین کے دفاع کے لیے صرف بیانات کافی ہیں؟ کیا ایرانی پالیسی اب محض سیاسی فائدے اور علاقائی توازن تک محدود ہو چکی ہے؟ اگر ایران واقعی فلسطینی عوام کے ساتھ ہے تو اسے صرف نعروں اور علامتی یکجہتی سے آگے بڑھ کر عملی میدان میں کچھ کرنا ہوگا۔یہ بھی سوال اہم ہے کہ ترکی، قطر، سعودی عرب، پاکستان،ایران، انڈونیشیا اور دیگر بڑے مسلم ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ ان میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جس نے کھلے عام اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کیا ہو، کوئی ایسا نہیں جس نے اسرائیل یا امریکہ سے تجارتی تعلقات منقطع کیے ہوں، کوئی ایسا نہیں جس نے فلسطینی عوام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات تجویز کیے ہوں۔جب دنیا کے طاقتور مسلم ممالک، صرف فلسطین کے حق میں بیانات دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو رہے ہیں، تب یہ فرض عوام کا بنتا ہے کہ وہ اپنی قیادت سے بازپرس کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں سے سوال کریں:
کیا فلسطینیوں کا خون سستا ہے؟ کیا مسلمانوں کی عزت و ناموس صرف دعاؤں اور قراردادوں سے بچائی جا سکتی ہے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم صرف زبانی جمع خرچ چھوڑ کر عملی مزاحمت کی راہ اپنائیں؟یہ تاریخ کا نازک ترین لمحہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ مسلم دنیا متحد ہو، او آئی سی کو ایک فعال ادارہ بنایا جائے، اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہو، اسرائیلی سفیروں کو نکالا جائے، اور فلسطینی عوام کی مدد کے لیے امدادی قافلوں اور سیاسی دباؤ کا منظم سلسلہ شروع کیا جائے۔ورنہ کل جب تاریخ لکھی جائے گی، تو اسرائیل، امریکا اور یورپ کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی خاموشی کو بھی جرم کے خانے میں لکھا جائے گا۔ اور یہ جرم ایسا ہوگا جسے نہ وقت معاف کرے گا، نہ نسلیں۔




