خبریںریاستی

تلنگانہ بی جے پی میں بھونچال: ایم ایل اے راجہ سنگھ کا پارٹی سے استعفیٰ، قیادت پر سنگین الزامات

پارٹی صدر کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے لیے ایک موزوں وقت (مُہورت) بھی منتخب کیا تھا، لیکن انہیں دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی

تلنگانہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں اُس وقت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب گوشا محل سے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا تحریری استعفیٰ ریاستی بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو سوموار کے روز حیدرآباد میں پیش کیا۔ اس کے بعد پارٹی دفتر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجہ سنگھ نے کہا کہ جب وہ ریاستی صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی داخل کرنے پہنچے تو انہیں روکا گیا، جس پر دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔

راجہ سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے باقاعدہ تحریری طور پر جی کشن ریڈی کو استعفیٰ دیا اور انہیں کہا کہ وہ اسپیکر اسمبلی کو ایک مکتوب بھیج کر انہیں ایم ایل اے کے عہدے سے بھی نااہل قرار دینے کے لیے کارروائی کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 2014 سے پارٹی میں مختلف مسائل اور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ وہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں بھی شامل ہیں۔ راجہ سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے اندر ہی کچھ بڑے رہنما ایسے ہیں جو نہیں چاہتے کہ پارٹی تلنگانہ میں اقتدار میں آئے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ بی جے پی میں مزید کام نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کارکنان ان کی حمایت کرتے ہیں، ان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر وہ ان کے ساتھ نظر آئے تو انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ راجہ سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے پارٹی صدر کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے لیے ایک موزوں وقت (مُہورت) بھی منتخب کیا تھا، لیکن انہیں دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا: “آپ کو بھی سلام، آپ کی پارٹی کو بھی سلام!”

دوسری طرف، بی جے پی قیادت نے ریاستی صدر کے طور پر رامچندر راؤ کے نام کو حتمی شکل دے دی ہے، جنہوں نے پہلے ہی اپنی نامزدگی داخل کر دی ہے۔ پارٹی کی جانب سے توقع ہے کہ منگل کے روز رامچندر راؤ کے نام کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تلنگانہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے رامچندر راؤ کے نام کی توثیق کی۔

بی جے پی کی جانب سے راجہ سنگھ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی ترجمان رانی رودرما نے کہا کہ اگر راجہ سنگھ ایم ایل اے کی حیثیت سے استعفیٰ دینا چاہتے ہیں تو وہ اسمبلی اسپیکر کو خط دیں۔ پارٹی ترجمان نے مزید کہا کہ بی جے پی کے لیے فرد سے زیادہ تنظیم اہم ہے، اور راجہ سنگھ کا استعفیٰ قومی صدر کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

ادھر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بَنڈی سنجے نے راجہ سنگھ سے ملاقات کی اور انہیں فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم، راجہ سنگھ نے واضح کیا کہ وہ اپنا فیصلہ بدلنے والے نہیں ہیں، اور انہوں نے پارٹی چھوڑنے کو حتمی فیصلہ قرار دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button