خبریںریاستی

تلنگانہ: ایم ایل اے راجہ سنگھ کا بی جے پی سے استعفیٰ، پارٹی قیادت برہم، معطلی یا منظوری کا امکان

  1. راجہ سنگھ کا پارٹی نظم و ضبط کو نظر انداز کرنا ان کی سیاسی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
  2. قیادت پر الزامات لگا کر انہوں نے بی جے پی کے اندرونی اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے۔
  3. ناپختہ بیانات اور خود ساختہ مظلومیت نے ان کی سیاسی ساکھ کو مجروح کیا ہے۔
  4. انہوں نے اختلاف کو پارٹی کے اندر حل کرنے کے بجائے عوامی سطح پر تنازع بنایا۔
  5. راجہ سنگھ کا رویہ سیاسی مفاہمت کے بجائے ذاتی انا کا عکاس دکھائی دیتا ہے۔

بی جے پی سے استعفیٰ دینے والے گوشا محل کے ایم ایل اے راجہ سنگھ کے طرز عمل پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کا استعفیٰ منظور کیے جانے یا پارٹی سے معطل کیے جانے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم ایل اے راجہ سنگھ نے خود پارٹی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں پریس کانفرنس کرنے کی تیاری بھی کر لی تھی۔ اس بات کی اطلاع پارٹی کے چند اہم رہنماؤں نے فوری طور پر اعلیٰ قیادت کو دی۔

اس پر بی جے پی کے سینئر قائدین سنیل بنسل اور ابھیے پاٹل فوری حرکت میں آئے اور راجہ سنگھ کو منانے کی کوشش کی۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق راجہ سنگھ کی وضاحت اور ان کے بیانات پر قیادت نے سخت ناراضی ظاہر کی۔ اسی پس منظر میں ریاستی قیادت نے راجہ سنگھ کا استعفیٰ قومی قیادت کو روانہ کیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، ریاستی صدر کے انتخابات کے موقع پر ان کا نامزدگی روکنے کی غرض سے نیا سوال اُٹھایا گیا کہ جب راجہ سنگھ کو پارٹی کا نامزدگی فارم ہی نہیں دیا گیا، تو وہ امیدوار کیسے بن سکتے ہیں؟ بی جے پی کی جانب سے اس مسئلے پر جلد ہی سرکاری بیان متوقع ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے پائل شنکر کا ردعمل:

ایم ایل اے پائل شنکر نے کہا کہ ریاستی صدر کا انتخاب پارٹی دستور کے مطابق جمہوری انداز میں کیا جا رہا ہے۔ صرف وہی افراد جو صدر کے عہدے کے لیے اہل ہیں، انہی کو نامزدگی داخل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس پارٹی ارکان کی تائید کے بعد ہی کوئی امیدوار نامزدگی داخل کر سکتا ہے۔ پائل شنکر نے میڈیا میں آنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔

بی جے پی کی ترجمان رانی رودرما کا بیان:

ترجمان رانی رودرما نے کہا کہ راجہ سنگھ کی طرف سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجہ سنگھ نے پارٹی ڈسپلن کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔ اگر وہ ایم ایل اے کی حیثیت سے استعفیٰ دینا چاہتے ہیں، تو انہیں اسپیکر اسمبلی کو استعفیٰ نامہ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے فرد سے زیادہ پارٹی کی اہمیت ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ راجہ سنگھ کی طرف سے پارٹی صدر کو دیا گیا استعفیٰ اب قومی صدر کو بھیجا جا رہا ہے۔

واقعات کی تفصیل:

تلنگانہ بی جے پی ریاستی صدر کے انتخاب کے لیے پیر کے دن نامزدگی کا عمل شروع ہوا۔ اس موقع پر رام چندر راؤ نے نامزدگی داخل کی، جب کہ راجہ سنگھ بھی نامزدگی داخل کرنے کے لیے بی جے پی کے دفتر پہنچے۔ تاہم، ان کے حامیوں سمیت انہیں دفتر میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس پر راجہ سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی داخل کرنے گئے تو انہیں روکا گیا، اور ان کے حامیوں کو بھی ڈرایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی میں کچھ سینئر رہنما بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button