خبریںریاستی

بچ اٹھے مدرسہ کی گھٹیاںعلم کا موسم پھر سے بہار لایا

محکمہ تعلیم نے 2025-26 کے لیے نیا اکیڈمک کیلنڈر جاری کیا ہے جس کے مطابق رواں تعلیمی سال میں کل 230 تدریسی ایام ہوں گے۔ اس کیلنڈر میں تمام اہم تعطیلات، امتحانات کی تاریخیں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں تاکہ اساتذہ، طلباء اور والدین سال بھر کی تعلیمی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کر سکیں۔ کیلنڈر کے مطابق SA1 امتحانات 24 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک، جبکہ SA2 امتحانات 10 اپریل سے 18 اپریل 2026 کے درمیان منعقد کیے جائیں گے۔ دسہرہ تعطیلات 21 ستمبر سے 3 اکتوبر، کرسمس تعطیلات 23 دسمبر سے 27 دسمبر (عیسائی مشنری اسکولوں کے لیے)، اور سنکرانتی تعطیلات 11 جنوری سے 17 جنوری 2026 تک مقرر کی گئی ہیں۔ تعلیمی سال 23 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوگا

تلنگانہ میں آج یعنی 12 جون 2025 سے تمام اسکول مکمل طور پر دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی ریاست میں تعلیمی سال 2025-26 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ 24 اپریل سے شروع ہونے والی گرمیوں کی تعطیلات 11 جون کو ختم ہو چکی ہیں۔ اب طلباء پوری توانائی اور نئے جذبے کے ساتھ اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔ کلاس رومز ایک بار پھر بچوں کی موجودگی سے جگمگا اٹھے ہیں اور درس و تدریس کی سرگرمیاں اپنے معمول پر آ گئی ہیں۔اس سال تعلیمی نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ تعلیم نے 2025-26 کے لیے نیا اکیڈمک کیلنڈر جاری کیا ہے جس کے مطابق رواں تعلیمی سال میں کل 230 تدریسی ایام ہوں گے۔ اس کیلنڈر میں تمام اہم تعطیلات، امتحانات کی تاریخیں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں تاکہ اساتذہ، طلباء اور والدین سال بھر کی تعلیمی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کر سکیں۔ کیلنڈر کے مطابق SA1 امتحانات 24 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک، جبکہ SA2 امتحانات 10 اپریل سے 18 اپریل 2026 کے درمیان منعقد کیے جائیں گے۔ دسہرہ تعطیلات 21 ستمبر سے 3 اکتوبر، کرسمس تعطیلات 23 دسمبر سے 27 دسمبر (عیسائی مشنری اسکولوں کے لیے)، اور سنکرانتی تعطیلات 11 جنوری سے 17 جنوری 2026 تک مقرر کی گئی ہیں۔ تعلیمی سال 23 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔طلباء کی آسانی کے لیے تلنگانہ آر ٹی سی نے بھی ایک اہم سہولت فراہم کی ہے۔ تمام طلباء کے لیے بس پاسز کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ انہیں اسکول اور کالج تک آنے جانے میں کسی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ یہ قدم نہ صرف سفر کو سہل بناتا ہے بلکہ طلباء کی حاضری کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
تعلیم کے فروغ کے لیے تلنگانہ حکومت نے ریاست گیر سطح پر ایک وسیع داخلہ مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔ اساتذہ کو گھر گھر بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ بچوں کے والدین سے براہِ راست ملاقات کریں، تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالیں، ان کے خدشات دور کریں اور بچوں کو اسکول میں داخلہ لینے کے لیے آمادہ کریں۔ اساتذہ نہ صرف والدین کو تعلیم کے فوائد سے آگاہ کر رہے ہیں بلکہ بچوں میں تعلیم سے محبت اور دلچسپی پیدا کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ مہم کے دوران تعلیم کو فرد اور معاشرے کی ترقی کا ذریعہ قرار دے کر اس کی اہمیت کو ہر گھر تک پہنچایا جا رہا ہے۔نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ریاست میں ایک تعلیمی جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔ کتابوں کی دکانوں پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جہاں والدین اور بچے نصابی کتابیں، یونیفارم، اسٹیشنری اور دیگر تعلیمی سامان خریدنے میں مصروف ہیں۔ یہ مناظر ایک تعلیمی تہوار کی یاد دلاتے ہیں، جس میں تعلیم کے لیے عزم، امید اور شوق نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ پرائمری اسکولوں سے لے کر جونیئر کالج اور ڈگری کالجز تک والدین کی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سنجیدہ ہیں۔کچھ اسکولز نے نویں اور دسویں جماعت کے طلباء کے لیے امتحانات کی بروقت تیاری کے پیشِ نظر قبل از وقت کلاسز کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس اقدام سے طلباء کو نصاب مکمل کرنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔تعلیمی ادارے اب محض درسگاہیں نہیں بلکہ تربیت گاہیں بھی بن چکے ہیں، جہاں بچوں کی علمی تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی، ذہنی اور سماجی نشوونما پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ والدین کو اس مہم میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ گھریلو ماحول کو بھی تعلیم دوست بنایا جا سکے۔ اس مربوط کوشش سے ایسے کئی بچے اسکولوں میں داخل ہو چکے ہیں، جو پہلے تعلیم سے دور تھے، خاص طور پر وہ بچے جو پسماندہ علاقوں میں رہتے تھے یا جن کے والدین کو تعلیم کی اہمیت کا شعور نہیں تھا۔
تلنگانہ حکومت کی یہ سنجیدہ کوششیں اس بات کی مظہر ہیں کہ تعلیم کو ریاست میں اولین ترجیح حاصل ہے۔ حکومت نہ صرف داخلہ مہم چلا رہی ہے بلکہ تعلیمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، نصاب کو جدید بنانے اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے تاکہ ریاست میں تعلیمی معیار کو بلند کیا جا سکے۔آخرکار، یہ کہا جا سکتا ہے کہ تلنگانہ میں نیا تعلیمی سال ایک نئی اُمنگ، امید اور پختہ عزم کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ یہ صرف اسکولوں کے دروازے کھلنے کی خبر نہیں، بلکہ ہر بچے کے لیے ایک نئے خواب، نئے سفر اور روشن مستقبل کی نوید ہے۔ تلنگانہ کی تعلیمی پالیسی اور عملی اقدامات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ریاست ہر بچے کو تعلیم یافتہ، باوقار اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ اور یہی خواب ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button