ایران-اسرائیل تصادمامت مسلمہ کب جاگے گی؟
وقت آ چکا ہے کہ عرب قیادت اپنے طرزِ عمل پر قرآن و سنت کی روشنی میں غور کرے۔خاموشی جرم ہے، اور دشمنوں کی خوشنودی کے لیے مظلوموں کے خون پر سودا کرنا کھلی غداری۔اگر آج وہ دنیا کی عارضی آسائشوں کے لیے اُمت کی قربانیوں کو فراموش کریں گے، تو کل اللہ کا عذاب اور تاریخ کی لعنت ان کا مقدر ہو گی۔اب وقت ہے کہ:مسلم دنیا بیدار ہواسلامی اتحاد کی تشکیل ہومظلوموں کے ساتھ کھڑے ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) نے اپنے حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے فائدے کے لیے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کے مشن پر قائم رہے گی، چاہے دشمنوں کی جارحیت کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ سماجی پلیٹ فارم X پر جاری پیغام میں تنظیم نے واضح کیا:’’ایران پُرعزم ہے… ہمارے جوہری سائنسدانوں کے عزم و حوصلے پر بھروسہ کرتے ہوئے، ہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کے راستے پر پوری طاقت اور پختہ ارادے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔ دشمنوں کے بزدلانہ حملے اس قوم کی قوتِ ارادی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘‘یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور ایرانی سائنسی و دفاعی انفراسٹرکچر کو اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسلامی تبلیغات تنظیم صوبہ تہران کے سربراہ، حجۃ الاسلام سید محسن محمودی نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی کمانڈروں اور سائنسدانوں کے لیے ایک عظیم الشان جنازہ منگل کے روز تہران میں منعقد کیا جائے گا۔یہ جنازہ صبح 8:00 بجے انقلاب چوک سے شروع ہو کر آزادی چوک کی جانب بڑھے گا، جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔محمودی نے کہا:’’تہران کے انقلابی عوام ایک بار پھر تاریخ رقم کریں گے۔ وہ نہ صرف ہمارے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے بلکہ سپاہِ پاسداران انقلاب کی قیادت سے تجدیدِ عہد بھی کریں گے۔‘‘انہوں نے اس جنازے کو اسلامی انقلاب، قومی وحدت اور مزاحمت کی علامت قرار دیا، اور عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، ایرانی سکیورٹی اداروں نے موساد سے وابستہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے دو افراد کو صوبہ البرز میں گرفتار کیا ہے۔یہ افراد مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد، بارودی سرنگیں اور الیکٹرانک ڈیوائسز تیار کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔اسی طرح وسطی ایران کے شہر یزد سے بھی پانچ افراد کو اسرائیل کے ساتھ روابط اور حساس مقامات کی تصاویر لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ موساد نے ایران کے اندر ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا، جو حالیہ حملوں سے قبل سرگرم تھا۔اس رپورٹ کے مطابق، بارودی ڈرونز کو ایران کے اندر اسمگل کیا گیا، جنہیں ایرانی جوہری اور عسکری تنصیبات پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔جمعہ کے روز’’الأسد الصاعد ‘‘(ابھرتا ہوا شیر) کے کوڈ نام سے اسرائیل نے بڑے پیمانے پر ایران پر حملے کیے، جن میں درجنوں جنگی طیارے شامل تھے۔ ان حملوں میں کئی اہم جوہری تنصیبات اور فوجی مقامات نشانہ بنائے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد ایرانی سائنسدان اور اعلیٰ افسران شہید ہوئے۔ ایران نے اسی روز بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا۔
ایران پر ہونے والے حملوں کے باوجود سعودی عرب، جو خود کو امت مسلمہ کا قائد سمجھتا ہے، مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ نہ مذمت، نہ حمایت، اور نہ ہی اسرائیلی جارحیت پر کوئی احتجاج۔یہ مجرمانہ خاموشی دراصل مغرب کی خوشنودی کی پالیسی کا نتیجہ ہے، جو نہ صرف اسلامی وحدت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ اُمت سے خیانت کے مترادف ہے۔اسی طرح چین اور روس جیسے طاقتور ممالک بھی صرف رسمی بیانات اور ’’تحمل‘‘ کی اپیلوں پر اکتفا کر رہے ہیں۔ پاکستان، جو کبھی اسلامی دنیا کی توانا آواز تھا، اس بار مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت بھی اس اہم مسئلے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
لبنان کی حزب اللہ، ایران کی قریبی اتحادی ہونے کے باوجود، حالیہ اسرائیلی دباؤ کے باعث دفاعی پوزیشن پر آ چکی ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت، کمانڈروں کی شہادت، اور معاشی بحران نے اس تنظیم کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس ایران کی درخواست پر بلایا گیا، لیکن اس کے بیانات اور رویہ واضح طور پر غیرجانب دار نظر آیا۔ اسرائیلی جارحیت پر مکمل خاموشی، جبکہ ایران کے دفاعی ردعمل پر ’’تحمل‘‘ کی اپیل، اقوام متحدہ کی منافقت اور طاقتوروں کے سامنے بے بسی کو آشکار کرتی ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ حالیہ کشمکش مغرب و مشرق کے اس تنازعے کا حصہ ہے جس میں مسلم دنیا ایک بےبس تماشائی بن کر رہ گئی ہے۔جب تک مسلم ممالک:مشترکہ موقف اختیار نہیں کرتےاسرائیل اور امریکہ کی سامراجی پالیسیوں کے خلاف متحد نہیں ہوتےایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف سنجیدہ قدم نہیں اٹھاتےتب تک تہران سے لے کر بیت المقدس، بغداد سے لے کر بیروت تک، مسلم شہر تباہ ہوتے رہیں گے۔
وقت آ چکا ہے کہ عرب قیادت اپنے طرزِ عمل پر قرآن و سنت کی روشنی میں غور کرے۔خاموشی جرم ہے، اور دشمنوں کی خوشنودی کے لیے مظلوموں کے خون پر سودا کرنا کھلی غداری۔اگر آج وہ دنیا کی عارضی آسائشوں کے لیے اُمت کی قربانیوں کو فراموش کریں گے، تو کل اللہ کا عذاب اور تاریخ کی لعنت ان کا مقدر ہو گی۔اب وقت ہے کہ:مسلم دنیا بیدار ہواسلامی اتحاد کی تشکیل ہومظلوموں کے ساتھ کھڑے ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے




