سید نویدؔ جعفری صرف ایک اچھے دوست ہی نہیں بلکہ دوستی کا ایک ایسا جذبہ ہیں جو دوستوں کی محفلوں کو اپنی محبت کی خوشبو سے معطر رکھتا ہے اور ان کے دکھ درد میں ڈھال بن کر کھڑا رہتا ہے سید عبداللطیف جعفری جو کہ نویدؔ جعفری کے تخلص سے شعر کہنے والا یہ شاعر یہ اردو ادب و فن کا شیدائی ہے اپنے دل کے نازک احساسات کو جس خوبصورتی سے لفظوں میں ڈھالتا ہے وہ قاری کے دل میں اتر جاتا ہے اردو ادب میں بھی ان کی وابستگی صرف شاعری کی حد تک نہیں ہے بلکہ اردو کے دیگر اصناف نثر و نظم سے ان کی محبت جنون کی حدوں کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے آج 10 جون جو کہ ان کی سالگرہ کا دن ہے ہم نویدؔ جعفری صاحب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں برادر سید نویدؔ جعفری صاحب میرے آئیڈیل بھی ہیں اور جانکار دوست بھی میں عرصہ دراز سے ہی ان کی شاعری کا گرویدہ رہا ہوں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مجھے آج تک ان کی کسی بھی غزل میں بھرتی کا کوئی شعر نظر نہیں آتا،
نویدؔ جعفری صاحب کی ولادت 10جون 1968ء کو ایک علمی ادبی و مذہبی گھرانے میں ہوئی، آپ کی والدہ محترمہ خود ایک اچھی شاعرہ تھیں اور سعیدہ نکہتؔ تخلص کرتی تھیں، مزید براں اپنے وقت کے معروف استاد الساتذہ رئیس الشعراء علامہ قدرؔ عریضی علیہ رحمتہ سے آپکی قریبی رشتہ داری تھی اور ان ہی سے نویدؔ جعفری صاحب کو شرفِ تلمذ بھی حاصل رہا آپ شاعری میں تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کرچکے ہیں جن میں حمد، نعت، منقبت، سلام، رباعی، غزل، اور قطعات شامل ہیں بلاشبہ مابعد جدید شاعری میں ان کا ایک خاص مقام ہے ان کی شاعری خود آگہی و خود بینی اور جہاں بینی سے آگے محو پرواز ہے جن میں عصری حسیت کے تمام لوازمات بھی شامل ہیں اور نئے فکری زاویوں کی تابناکیاں بھی جو انہیں اپنے ہم عصر شعراء میں ممتاز بناتی ہیں وہ تمام ادبی گروپ بندیوں سے الگ اپنا ایک قلندرآنہ مزاج رکھنے والے انسان ہیں حق گوئی اور حق پرستی ان کا خاص وصف رہا ہے یہی وجہ ہے کہ معاصرین ان سے شاکی اور خائف رہتے ہیں اور ان کو اپنے نام و نمود کے لئے برپا کئے گئے محافل سے انکو دور رکھنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں جس کی وہ خود بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور ان تمام باتوں سے بے نیاز ہوکر وہ پورے انہماک سے اپنے ادبی سفر پہ گامزن ہیں اور اردو ادب کو اپنی لازوال شاعری سے مالا مال کررہے ہیں ان کی غزلوں کے مطالعے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے الفاظ کو نظم نہیں کیا ہے بلکہ الفاظ از خود نظم ہوتے جارہے ہیں برجستگی ایسی جسکی مثال نہیں شگفتگی ایسی کہ پھولوں کا بانکپن شرما جائے شعر اور غیر شعر کا فرق سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ شعریت کہاں موجود ہے نویدؔ جعفری صاحب نے اپنی شاعری میں شعر کے تمام تقاضوں کو بھر پور طریقے سے ملحوظ رکھتے ہوئے شاعری کے معیار کو بھی برقرار رکھا ہے جیسے کہ انکا یہ شعر
حیات جہدِ مسلسل سے معتبر ہے نویدؔ
یہ کھیل لفظوں کا یہ زوقِ شاعری کب تک
یہ شعر جو کہ شاعری کے اعلیٰ معیار پر کھرا ہے اور اپنے آپ میں بہت کچھ کہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انکی شاعری شعریت سے لبریز ہے ’’بقول استادِ سخن حضرت علامہ سیفؔ حموی الجیلانی صاحب کے‘‘جناب نویدؔ جعفری صاحب ما بعد جدید دور کے ایک اہم شاعر ہیں ان کی شاعری بلاشبہ اپنی الگ شناخت رکھتی ہے میں ہر شاعر کو دو نظریئے سے دیکھتا ہوں کیا کہا ہے اور کیسے کہا ہے جب کوئی شاعر ان دونوں نہج پر اپنی الگ شان رکھتاہو تو اسے ممتاز، مشہور، مقبول اور منفرد شاعر کہنے میں تامل نہیں ہوتا ہے” نویدؔ جعفری صاحب کا شمار بھی میں ایسے ہی شاعروں میں کرتا ہوں کیونکہ وہ اپنی شاعری اور اردو ادب کی خدمت سے معتبر ہوئے ہیں ان کی خوددار طبیعت نے انہیں نقادوں اور مدیروں کی خوشامد کرنے سے ہمیشہ روکے رکھا جس کی وجہ میرے خیال میں یہی رہی کہ وہ حصولِ شہرت سے دور بھاگتے رہے ہیں اس کے سبب انہیں کئی دفعہ نقصان بھی پہنچا وہ دل برداشتہ بھی ہوئے کچھ عرصے کے لیے شاعری سے کنارہ کشی بھی اختیار کی مگر ان کی حساس ادبی و تخلیقی طبیعت نے انہیں زیادہ دنوں تک خاموش رہنے نہیں دیا اور وہ دوبارہ گیسوئے غزل سنوارنے پر راضی ہوگئے جو کہ اردو شاعری کے لیے نیک فعال ثابت ہوا نویدؔ جعفری صاحب جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے ہی اچھے نثر نگار بھی ہیں انہوں نے اردو ادب میں افسانے اور مضامین بھی لکھے ہیں جس میں اردو کے نامور اور فراموش کردہ شعراء کرام کے تعارف کا سلسلہ پچھلے پانچ سالوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے لیئے محترم نویدؔ جعفری صاحب کو اردو اخبارات اور شوشیل میڈیا پر اردو داں حضرات سے خاصی پذیرائی حاصل ہورہی ہے اگر مجھ سے ان کی شخصیت کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ ایک اعلی ظرف اور ایک اعلی کردار کے انسان ہیں وہ خوددار ہیں مگر مغرور نہیں ہیں یہی سبب ہے کہ وہ اپنے سے جونیئر اور نئے شاعروں کے کلام پر اپنی رائے دینے سے کبھی گریز نہیں کرتے ہیں اسقام کی نشاندہی بھی سلیقے سے کرتے ہیں اوراچھے شعروں پر بڑی فراخدلی سے داد بھی دیتے ہیں یہ بڑی بات ہے جہاں انہوں نے اردو کے سینیئر شعراء اور مرحوم شعراء کے لئے یاد رفتگاں کے مضامین کے زریعے ہماری آنے والی نسلوں میں ان کی یاد تازہ رکھنے کی مسلسل کوشش میں لگے ہوۓ ہیں وہیں ساتھ ساتھ شاعری میں روشن امکانات کے حامل کم عمر نئے شعراء کا تعارف بھی وہ پیش کیا کرتے ہیں میرے کئی احباب مجھ سے ذاتی طور پر نویدؔ جعفری صاحب کے مکمل تعارف کا تقاضہ کرتے رہے ہیں اور جب بھی میں نے ان کے بارے میں تعارف کے سلسلے میں ان سے بات کی ہمیشہ ٹالتے رہے اور میں ایسے کئی ان کے ہم عصر شعراء و احباب کو جانتا ہوں جو نویدؔ جعفری صاحب سے انکا جشن منانے کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ اپنے استادِ محترم علامہ قدرؔ عریضی علیہ رحمتہ کی طرح کہا کہ ہم تو حقیر و فقیر لوگ ہیں ہمارا کیا جشن کیا تعزیت؟ مگر میں احباب کی طرف سے مسلسل اصرار کے ساتھ ان سے تقاضہ کرتا رہا بلآخر انکی اجازت اور تعاون سے یہ تحریر تیار کرکے انہیں دکھایا اور ان سے اس کو صحافت تک پہنچانے کی اجازت چاہی جو کہ بڑی مشکل سے مجھے مل گئی، اردو شاعری کے قدرداں احباب کو ان کی لازوال شاعری سے محظوظ کرنے اور اس یادگار تحریر کو مزید یادگار بنانے کے لئے انکی ذوقِ شاعری کے معیار کو سمجھنے کی کاوش کے طور پر محترم نوؔید جعفری صاحب کے کچھ منتخب اشعار قارائین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور یہی میری جانب سے میرے عزیز دوست نویدؔ جعفری صاحب کو خراج تحسین ہے
چراغ، چاند ، ستارے یہ اشک اور جگنو
شب فراق کو بخشیں گے روشنی کب تک
تمہیں اجالوں سے کیوں انحراف ہوتا ہے
سحر قریب ہے اوقات چاندنی کب تک
میں سوختہ دل و ارماں لئے کہاں جاوں
ٹہرجا ! سونچنے دے پائے اضطرار مجھے
نہیں ! نہیں !! مجھے جینا ابھی نہیں آیا
سنبھا لتا ہے ترا فضلِ بے شمار مجھے
رفیقِ جاں ہے مرا دردِ بے کراں ہی نویدؔ
’’دوا‘‘ کے ذکر سے کیجئے نہ شرمسار مجھے
درد و الم کی رات کو ڈھلنا تو ہے نہیں
دل کو ترے بغیر سنبھلنا تو ہے نہیں
فتنوں میں ،دشمنوں میں، کئی الجھنوں میں ہوں
فکر و مَفر میں راہ بدلنا تو ہے نہیں
میں جل رہا ہوں آگ میں خود اپنی ائے نویدؔ
اغیار کے الاؤ میں جلنا تو ہے نہیں
کوئی جینا ہے یہ بھی ڈر ڈر کے
پھر بھی جیتے ہیں لوگ مر مر کے
ایک مٹھی ہی دھوپ مل جائے
دَشت تاریک ہیں مقدر کے
کسقدر گونجتے ہیں سناٹے
جیسے نقارے غم کے لشکر کے
صرف خوں ہی نہیں شفق میں نویدؔ
رَمز کچھ اور بھی ہیں منظر کے
آپ حق پر اٹل ہیں اگر
زیست مل جائے گی دار پر
ساری دنیا خریدار ہے
بک رہا ہوں تیرے نام پر
میرے آنسو پہ وہ کھل اٹھا
جیسے شبنم گرے پھول پر
میں نے کعبہ کو پایا نویدؔ
جھک گیا دل کی جانب جو سر
رباعیات
کیا فکر کی اوقات رباعی کے بغیر
بے رنگ ہیں جزبات رباعی کے بغیر
معراجِ سخن کے لئے لازم ہے نویدؔ
بنتی ہی نہیں بات رباعی کے بغیر
تم روحِ غزل ہو میری اور جانِ غزل
ایمان کی پوچھو تو ہو ایمانِ غزل
دیکھا جو مْجَسم وہ غزل کا پیکر
جاگا ہے مرے دل میں بھی ارمانِ غزل
سرکارؑ جو فرمائیں کے احسان نویدؔ
ہوجائے گی مشکل میری آسان نویدؔ
سرکارِ دوعالم پہ فدا ہوجاؤں
ارماں ہے یہ کتنا میرا ذیشان نویدؔ

