خبریںریاستی

آندھرا پردیش میں قبائلی گروکلا آؤٹ سورسنگ تدریسی عملے کی تنخواہوں میں اضافہ

دوسری جانب، تلنگانہ میں آؤٹ سورسنگ تدریسی عملے کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر (دو سے تین ماہ) ایک بڑا مسئلہ ہے، اور گزشتہ تین سال سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ملازمین کی شکایات کے مطابق، آؤٹ سورسنگ عملے کو نہ تو مناسب عزت دی جاتی ہے، نہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اور نہ ہی تنخواہوں میں باقاعدہ اضافہ کیا جاتا ہے۔

آندھرا پردیش حکومت نے قبائلی گروکلا میں آؤٹ سورسنگ تدریسی عملے کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک قابل ستائش اقدام ہے۔ 1659 ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جو رہائشی اسکولوں اور کالجوں میں کام کرنے والے عملے کے لیے کیٹیگری A اور B کے تحت نافذ ہوں گے۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • کیٹیگری A: جونیئر لیکچررز، پی ڈی (سی)، لائبریرینز، اور پی جی ٹی کی تنخواہ 24,150 روپے، ٹی جی ٹی اور پی ڈی (ایس) کی تنخواہ 19,350 روپے، جبکہ پی ای ٹی، آرٹ، کرافٹ، اور میوزک عملے کی تنخواہ 16,300 روپے مقرر کی گئی ہے۔
  • کیٹیگری B: کالج آف ایکسلنس میں 40 جونیئر لیکچررز اور 18 پی جی ٹی کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پی جی ٹی کی تنخواہ 25,000 روپے سے بڑھ کر 31,250 روپے ہوگئی ہے۔ اراکو ویلی کے بچوں کے کھیل کے اسکول میں کوچ کی تنخواہ 25,000 روپے سے بڑھ کر 31,250 روپے اور اسسٹنٹ کوچ کی تنخواہ 22,000 روپے سے بڑھ کر 27,500 روپے کر دی گئی ہے۔

یہ احکامات قبائلی بہبود محکمہ کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور اس سے عملے کی مالی حالت بہتر ہونے کی توقع ہے۔

تلنگانہ میں آؤٹ سورسنگ تدریسی عملے کے مسائل

دوسری جانب، تلنگانہ میں آؤٹ سورسنگ تدریسی عملے کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر (دو سے تین ماہ) ایک بڑا مسئلہ ہے، اور گزشتہ تین سال سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ملازمین کی شکایات کے مطابق، آؤٹ سورسنگ عملے کو نہ تو مناسب عزت دی جاتی ہے، نہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اور نہ ہی تنخواہوں میں باقاعدہ اضافہ کیا جاتا ہے۔

تنقید اور تجاویز

تلنگانہ حکومت پر سخت تنقید کی جاتی ہے کہ وہ آؤٹ سورسنگ عملے کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ آندھرا پردیش کی طرح تنخواہوں میں اضافہ اور ادائیگی کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ حکومت کو چاہیے کہ:

  1. تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائے۔
  2. باقاعدگی سے تنخواہوں میں اضافے کے لیے پالیسی بنائے۔
  3. آؤٹ سورسنگ عملے کے لیے ترقی اور مراعات کے مواقع فراہم کرے۔

یہ اقدامات نہ صرف عملے کی کارکردگی بہتر کریں گے بلکہ تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار کو بھی بلند کریں گے۔ آندھرا پردیش کا ماڈل تلنگانہ کے لیے ایک مثال ہو سکتا ہے۔

نوٹ: اگر آپ تلنگانہ کے مسائل کے بارے میں مزید تفصیلات یا مخصوص اعداد و شمار چاہتے ہیں، تو براہ کرم واضح کریں تاکہ میں مزید درست معلومات فراہم کر سکوں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button