آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش: امریکی حملوں کے بعد ایران کا دفاعی حق اور تاریخی و معاشی تناظر
ایران آبنائے ہرمز کا قدرتی نگران ہے، اور یہ علاقہ اس کے جغرافیائی دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ جب اس کی سرزمین اور تنصیبات پر حملے ہو رہے ہوں، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ دشمن کی نقل و حرکت، رسد، اور اقتصادی نیٹ ورک پر اثر انداز ہو کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات ’ فوردو، نطنز اور اصفہان ‘پر راتوں رات حملے کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔ ان حملوں کو محض ایک’’دفاعی اقدام‘‘ کہنا، جیسا کہ امریکی حکام کر رہے ہیں، درحقیقت ایران کی خودمختاری پر براہ راست حملہ ہے۔ ایسے حالات میں، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے کو غیر معقول یا اشتعال انگیز قرار دینا نہ صرف یک طرفہ سوچ ہے بلکہ بین الاقوامی انصاف اور خودمختاری کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔
تاریخی تناظر میں ایران کی حکمت عملی
1980-1988: ایران-عراق جنگ کے دوران ایران نے خلیج میں Tanker War کا آغاز کیا، جس میں مخالف ممالک کے ٹینکروں پر حملے کیے گئے تاکہ خام تیل کی ترسیل میں خلل پیدا ہو سکے
2011-2012 میں ایران کیٹنر حملے اور ہرمز کی بندش کی دھمکیوں کے بعد عالمی تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں ۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب ایران کو اپنی خودمختاری یا سلامتی پر خطرہ محسوس ہوتا ہے، وہ اسٹریٹیجک پانی کی گزرگاہوں میں رکاوٹ ڈال کر عالمی دباؤ کا توازن واپس لانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اقتصادی اثرات اور عالمی ردِ عمل
آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریبا 20 فیصد عالمی خام تیل اور LNG گزرتا ہے میں اگر ہرمز بند ہوتا تو فی بیرل قیمتیں 50 فیصد سے زائد بڑھ سکتی تھیں، اور قیمتیں $440 کے قریب پہنچنے کا خدشہ تھا۔
موجودہ کشیدگی میں اگر بندش ہو تو ابتدائی طور پر 15-20 ڈالر اضافہ متوقع ہے، اور طے شدہ مدت میں90-120 ڈالر بھی پہنچ سکتے ہیں ۔رکاوٹ کے اثرات صرف قیمت پر نہیں، بلکہ نیوی گیشن بندش، جہازوں کی انشورنس پر اضافی اخراجات، عالمی مال و تجارت میں تاخیر اور مستحکم ترسیل کے راستوں پر دباؤ وغیرہ شامل ہوں گے ۔
خطے اور عالمی رسپانس
امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران کی جانب سے ایندھن کی نقل و حمل پر اثر انداز ہونا ناقابلِ قبول ہے، اور نہ صرف امریکی نائب صدر بلکہ وزیرِ خارجہ بھی عالمی طاقتوں بشمول چین سے ایران کو روکے رکھنے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔
دوسری جانب، تاریخی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ ایسی کشیدگی اوسطاً 46 ماہ میں کم ہو جاتی ہے کیونکہ عالمی ذخائر اور متبادل ذرائع متحرک ہو جاتے ہیں ۔
ایران کو معلوم ہے کہ مکمل بندش اپنے لیے مالی نقصان کا باعث بنے گی جبکہ جزوی یا عارضی بندش ایک مؤثر دفاعی اشارہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ اسے ماضی میں بھی فائدہ پہنچا ۔
ایران کا اسٹریٹیجک موقف
جب کوئی ملک جارحانہ حملوں کا نشانہ بنے، تو آبنائے ہرمز جیسی اہم گزرگاہ کو تدبیری نقطۂ کنٹرول بنانا، اس کا جائز دفاعی عمل ہے۔ایران کی آئینی طور پر اس نشری چینل کی بندش کوئی قانون شکنی نہیں، بلکہ بین الاقوامی جنگی اصولوں کے مطابق جائز خود دفاع ہے۔ اقتصادی پابندیاں، ہتھیاروں کی تخصیص، اور تیل و گیس سے وابستہ آمدنی پر حملہ سب ایران کے وجودی حق کو چیلنج کرتے ہیں جو ریاستی موقف خود بخود خطے میں دفاعی کارروائیوں کو جواز فراہم کرتا ہے۔
جنگی حالات میں ریاستوں کے حقوق:
بین الاقوامی قانون اور جنگی ضوابط کے مطابق، جب کسی ملک پر جارحیت کی جائے تو اسے ہر قسم کی دفاعی اور اسٹریٹیجک پالیسی اپنانے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ ایران اس وقت نہ صرف ایک عسکری جارحیت کا نشانہ ہے بلکہ اس کی خودمختاری، دفاعی صلاحیت، اور جوہری تنصیبات کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ ایسے میں اگر ایران آبنائے ہرمز جیسی اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل گزرگاہ کو عارضی طور پر بند کرنے کا عندیہ دے رہا ہے، تو یہ اس کی بقا کی جنگ کا ایک حصہ ہے، نہ کہ کوئی جارحانہ قدم۔
امریکہ کی’’غیر متوازن‘‘توقعات:
امریکہ کی جانب سے چین سے یہ مطالبہ کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے کہ وہ آبنائے ہرمز بند نہ کرے، نہایت غیر متوازن، غیر منصفانہ، اور دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف امریکہ خود ایران پر حملہ کر رہا ہے، دوسری جانب ایران سے یہ توقع رکھنا کہ وہ “مفاداتِ عالم” کی خاطر خاموش تماشائی بنا رہے، انتہائی غیر منطقی ہے۔
کیا دنیا یہ بھول گئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 20 فیصد عالمی تیل و گیس کی ترسیل ہوتی ہے؟ اگر یہ عالمی اقتصادی شہ رگ ہے، تو پھر اسے عسکری جارحیت کا میدان بنانے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، نہ کہ صرف دفاع کرنے والوں سے۔
ایران کا جغرافیائی و اسٹریٹیجک حق:
ایران آبنائے ہرمز کا قدرتی نگران ہے، اور یہ علاقہ اس کے جغرافیائی دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ جب اس کی سرزمین اور تنصیبات پر حملے ہو رہے ہوں، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ دشمن کی نقل و حرکت، رسد، اور اقتصادی نیٹ ورک پر اثر انداز ہو کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔
عالمی برادری کا امتحان:
اگر عالمی برادری واقعی خطے میں امن کی خواہاں ہے تو اسے صرف ایران سے صبر و ضبط کی اپیلیں کرنے کے بجائے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کی گئی جارحیت کی بھی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر، عالمی اداروں کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان برقرار رہے گا۔
نتیجہ:
جنگی حالات میں ہر قوم کو اپنی خودمختاری اور بقا کی حفاظت کے لیے تمام دستیاب پالیسی آپشنز اپنانے کا اختیار ہے۔ امریکہ کے حملے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ایرانی پارلیمنٹ کی منظوری ایک دفاعی و حکمت عملی فیصلہ ہے، نہ کہ اشتعال انگیزی۔ دنیا کو ایران سے یہ مطالبہ کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا کوئی خودمختار ریاست ایسے حالات میں خاموش رہ سکتی ہے؟ اگر امریکہ کو حملے کا’’حق‘‘ حاصل ہے، تو ایران کو دفاع کا’’اختیار‘‘ کیوں نہیں؟




