بین الاقوامی تاریختَوَارِیخ

بین الاقوامی ثالثی تنظیم (IOMed) کا قیام: پرامن عالمی تنازعات کے حل کی نئی راہ

بین الاقوامی ثالثی تنظیم (IOMed) کا قیام بین الاقوامی تنازعات کے حل کے نظام میں ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ تنظیم باہمی افہام و تفہیم، ثقافتی احترام اور پرامن گفت و شنید کے اصولوں پر مبنی ایک نیا متبادل مہیا کرتی ہے، جو مہنگی، پیچیدہ اور طاقت پر مبنی روایتی طریقوں کا مؤثر متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ ہانگ کانگ میں اس کا قیام نہ صرف قانونی مہارت بلکہ عالمی اعتماد کی علامت ہے۔ IOMed عالمی برادری کے لیے ایک ایسا فورم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے جو انصاف، شفافیت اور کثیرالجہتی پر مبنی عالمی نظم کی تعمیر میں مددگار ہو گا۔

30 مئی کو ہانگ کانگ میں بین الاقوامی ثالثی تنظیم (International Organization for Mediation – IOMed) کے قیام کے کنونشن پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر 85 ممالک اور تقریباً 20 بین الاقوامی تنظیموں کے سینئر نمائندگان جمع ہوئے۔ موقع پر ہی 33 ممالک نے اس کنونشن پر دستخط کیے اور بانی رکن ممالک بن گئے۔دنیا کی یہ پہلی بین الحکومتی تنظیم ہے جو بین الاقوامی تنازعات کو ثالثی (مذاکرات و مفاہمت) کے ذریعے حل کرنے کے لیے وقف ہے۔ IOMed ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو ممالک کے درمیان تنازعات، ریاست اور دوسرے ممالک کے شہریوں کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات، اور بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے کام کرے گی۔
بین الاقوامی تنازعات کے حل کے موجودہ نظام میں ایک طویل عرصے سے عدالتی فیصلوں اور ثالثی (arbitration) پر انحصار رہا ہے، جن کی اپنی حدود و قیود ہیں۔ اس کے برعکس، ثالثی ایک ایسا طریقہ کار ہے جو فریقین کی رضامندی پر مبنی ہوتا ہے اور ایک غیر جانب دار تیسرے فریق کی مدد سے “ون-ون حل” تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ خود فریقین کرتے ہیں۔ہانگ کانگ کی عدالتی عمل داری سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عدالت کی زیرنگرانی ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل کی شرح تقریباً 50 فیصد ہے، جو اس طریقہ کار کی اہمیت اور افادیت کو واضح کرتی ہے۔ یہ طریقہ، جو “پرامن بقائے باہمی” کی حکمت پر مبنی ہے، ان بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتا ہے جو ثقافتی تنوع اور سیاسی حساسیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔


آج دنیا ایک صدی میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، جہاں کئی اقسام کے تنازعات باہم جُڑے ہوئے ہیں۔ ان عالمی اور علاقائی مسائل کو ’’سرد جنگ‘‘ کی سوچ کے تحت حل کرنے کی کوشش وقت کی ضرورتوں اور قانون کی حکمرانی کے رجحان سے انحراف ہے۔موجودہ بین الاقوامی عدالتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کو اکثر درج ذیل مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے:ان کی آواز کی کمیموجودہ اصولوں کا ان پر اطلاق نہ ہوناحل کے طریقوں کی مہنگائیاس کے برعکس، بعض بڑی طاقتیں بین الاقوامی تنازعات کو یکطرفہ پابندیوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، بین الاقوامی قوانین اور نظام کو نظر انداز کرتے ہوئے، جو مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔بین الاقوامی برادری آج پہلے سے زیادہ شدت سے پرامن حل کی متمنی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین بیجنگ میں ہونے والی تاریخی مصالحت اور مختلف فلسطینی دھڑوں کی طرف سے بیجنگ اعلامیے پر دستخط، اس بات کا ثبوت ہیں کہ بات چیت کے ذریعے اختلافات کو حل کرنا ممکن اور مؤثر ہے۔ایسے میں IOMed کا قیام نہایت بروقت ہے، اور یہ بین الاقوامی نظام کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں لے جانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
IOMed بین الاقوامی تنازعات کو پرامن اور دوستانہ انداز میں حل کرنے کا داعی ہے، اور اس کا مقصد بین الاقوامی تعلقات کو زیادہ ہم آہنگ بنانا اور قانون کی حکمرانی کی ایک جامع، قابل قبول اور کثیرالجہتی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ عالمی نظام میں جاری بڑی تبدیلیوں کے تناظر میں، IOMed ایک ایسا بین الاقوامی پبلک گُڈ (عالمی مفاد عامہ) فراہم کرتا ہے جو پرامن، منصفانہ، قابل اعتماد اور مؤثر ہے۔بین الاقوامی قانون کے تناظر میں، IOMed اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود پرامن تصفیہ تنازعات کے اصولوں کے لیے ایک اختراعی ردعمل ہے۔ یہ بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کے روایتی طریقوں ‘خواہ وہ ریاستوں کے درمیان ہوں، ریاست اور سرمایہ کاروں کے درمیان یا تجارتی اداروں کے مابین‘ سے آگے بڑھ کر زیادہ لچک، سہولت، کم لاگت اور مؤثر نفاذ فراہم کرتا ہے۔یہ تنظیم قانونی چارہ جوئی اور ثالثی جیسے موجودہ نظاموں کی تکمیل بھی کرتی ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک زیادہ ہمہ جہت اور متنوع نظام تشکیل دیتی ہے۔
فریقین کے مابین مشاورت کے بعد، ہانگ کانگ کو IOMed کا ہیڈکوارٹر مقرر کیا گیا جو ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے تحت قانون کی حکمرانی کی ثقافت پر بین الاقوامی برادری کا اعتماد ظاہر کرتا ہے۔خود ہانگ کانگ کی واپسی ایک کامیاب تنازع حل کی مثال ہے، اور اس کی خوشحالی اور استحکام ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔ کامن لا اور سول لا دونوں قانونی روایات، پختہ قانونی ماحول، اور ’’سپر میڈی ایشن‘‘ کے وسیع تجربے کے امتزاج کے ساتھ، ہانگ کانگ ‘و مادرِ وطن کی پشت پناہی سے ایک بین الاقوامی شہر کے طور پر عالمی برادری سے جُڑا ہوا ہےIOMed کی ترقی کے لیے ایک آئیڈیل مقام فراہم کرتا ہے۔یہ’’عالمی قانون کی حکمرانی کا ابھرتا ستارہ‘‘ IOMed’’ مشرق کا موتی‘‘ہانگ کانگ کے ساتھ مل کر ایک تابناک مستقبل تخلیق کرے گا۔
دنیا آج تاریخ کے ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اقوام کی پکار اب طاقت کے کھیل کا میدان نہیں، بلکہ ایک ایسا مکالماتی پلیٹ فارم ہے جو ’’صفر حاصل‘‘کی ذہنیت سے بالاتر ہو، اور تنازعات کے دوستانہ حل کو فروغ دے۔یہی IOMed کا مشن ہے یہ نہ صرف تنازعات کے حل کی عملی ضرورت کو پورا کرتا ہے بلکہ تہذیبی سطح پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ اختلافات بات چیت سے ختم ہوں اور مشاورت سے حل نکلے۔ اس امن کے پودے کی صحت مند نشوونما کے لیے عالمی برادری کی نگہداشت اور حمایت ضروری ہے۔ہم مزید ممالک کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ اس کوشش میں ہاتھ بٹائیں اور ایک پرامن دنیا کی تعمیر میں شراکت دار بنیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button