بھارت کی خارجہ پالیسی پر نظرثانی: علاقائی تنہائی سے شمولیت کی جانب واپسی کی ضرورت
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء، امیر خسرو، غالب، اقبال ‘ان تمام شخصیات نے ایرانی فکر اور روحانیت کو ہندوستانی سرزمین پر پروان چڑھایا۔ایران اور بھارت کا روحانی میل جول ہزار سال پرانا ہے، جو محض سیاسی تبدیلیوں سے نہیں مٹ سکتا۔بھارت ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ، توانائی، ٹرانزٹ اور تعلیم جیسے میدانوں میں مسلسل تعاون کرتا رہا ہے۔14 سالہ اسرائیلی تعلق کو بنیاد بنا کر قدیم تہذیبی رشتے کو ترک کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ قومی وقار کے منافی بھی ہے۔
وسطی ایشیا، جو کہ توانائی، جغرافیائی سیاست اور طالبان کے بعد افغانستان کے استحکام کے لیے کلیدی خطہ ہے، وہاں بھارت اپنی موجودگی مضبوط بنانے میں ناکام رہا ہے۔’’انٹرنیشنل نارتھ-ساوتھ ٹرانسپورٹ کاریڈور‘‘ اور چابہار بندرگاہ جیسے منصوبے ایران پر پابندیوں اور بھارت کی پالیسی تذبذب کا شکار ہونے کی وجہ سے ٹھپ پڑ گئے۔ چین اور روس وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اثرورسوخ بڑھا چکے ہیں، جبکہ بھارت کے لیے دروازے دھیرے دھیرے بند ہو رہے ہیں۔ایران کے ساتھ تعلقات ہمیشہ بھارت کی علاقائی طاقت کے توازن کے لیے اہم رہے ہیں۔ مگر حالیہ برسوں میں بھارت نے امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر ایران سے فاصلہ بڑھایا۔ چابہار بندرگاہ کا پراجیکٹ سرد خانے میں ڈال دیا گیا، جبکہ ایران کو بھارت کی پالیسیوں میں بے اعتنائی دکھائی دی۔ ایران نے حالیہ دنوں میں چین اور پاکستان کی طرف جھکاؤ دکھایا ہے، جو بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کا کردار افغانستان میں بہت کم ہو گیا ہے۔ بھارت نے طالبان حکومت سے ابتدائی طور پر کوئی باضابطہ رابطہ قائم نہیں کیا، جس سے وہ زمینی حقیقتوں سے کٹ گیا۔ اس دوران پاکستان، چین، ایران، روس سبھی نے طالبان حکومت سے تعلقات استوار کر لیے، جبکہ بھارت پیچھے رہ گیا۔ افغانستان میں انسانی امداد، تعلیمی منصوبے اور انفراسٹرکچر میں بھارتی سرمایہ کاری ضائع ہونے کے دہانے پر ہے۔
بھارت نے اسرائیل کے ساتھ فوجی، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں رشتے مضبوط کیے ہیں، مگر یہ تعلقات اخلاقی اور علاقائی توازن کے لحاظ سے متنازعہ ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین پر حملوں کے دوران بھارت کی خاموشی یا اسرائیل کی درپردہ حمایت عالمی برادری میں اس کی شبیہ خراب کر رہی ہے۔ عالمی جنوب (Global South) کے مسلم اکثریتی ممالک، جن سے بھارت نے روایتی طور پر اچھے تعلقات رکھے تھے، اب اس سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔
ٹرمپ دور میں بھارت نے امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کیا، لیکن بدلے میں کچھ خاص نہیں پایا۔ نہ H-1B ویزا میں نرمی ملی، نہ ہی چین کے خلاف واضح حمایت۔ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بھارت کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی، اور چین کا اثر بڑھ گیا۔ اس سے بھارت کو سبق سیکھنا چاہیے تھا کہ عالمی سیاست میں دوستی نہیں، مفادات چلتے ہیں۔
روس کے ساتھ تاریخی تعلقات ضرور ہیں، لیکن یوکرین جنگ کے بعد روس پر عالمی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ روس اب چین کی جھولی میں جا گرا ہے، جو بھارت کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ ہے۔ ایسی صورت میں روس سے بھارت کی بے جا امیدیں حقیقت سے دور نظر آتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی پالیسیوں سے نفرت اور مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ اگر اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت جاری رکھی تو وہ نہ صرف سفارتی سطح پر تنہا ہو جائے گا بلکہ خود اس کے وجود کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں بھارت کی کھلی حمایت اسے ایک غیر اخلاقی اور نقصان دہ پوزیشن میں لا سکتی ہے۔بھارت کو توازن اور خودمختاری پر مبنی خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے۔ایران، افغانستان، وسطی ایشیا جیسے پڑوسی اور علاقائی طاقتوں سے دوبارہ مضبوط سفارتی رشتے قائم کرنا ہوں گے۔’’علاقائی تنہائی‘‘ کے بجائے ’’علاقائی شمولیت‘‘کی پالیسی پر واپس آنا ہوگا۔اسرائیل جیسے متنازعہ اتحادی کے ساتھ تعلقات میں احتیاط برتنی چاہیے، خصوصاً جب عالمی ضمیر بیدار ہو رہا ہو۔امریکہ یا روس کسی ایک طاقت پر انحصار کے بجائے’’ملٹی الائنمنٹ‘‘کی پالیسی بھارت کے لیے سودمند ہوگی۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محدود فوجی جھڑپوں کے دوران بھارت نے رسمی طور پر خاموشی اختیار کی، جو کہ ایک’’ملٹی الائنمنٹ‘‘ پالیسی کے تحت سفارتی مجبوری بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم، بھارتی قومی میڈیا اور سوشل میڈیا نے جس انداز میں ایران مخالف اور اسرائیل نواز بیانیہ اپنایا، اس نے بھارت کی جمہوری روح، غیرجانبدار امیج اور تہذیبی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا۔
بڑی تعداد میں میڈیا چینلز (عرف: گودی میڈیا) نے بغیر تحقیق اور تاریخی پس منظر کے، ایران کو دہشت گردی سے جوڑنے والی خبریں نشر کیں۔سوشل میڈیا پر منظم ٹرینڈنگ کے ذریعے ایران اورفلسطین کے خلاف نفرت بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔عالمی جیوپولیٹکس کو صرف اسرائیلی نکتہ نظر سے دکھایا گیا، جبکہ ایران کا موقف یا تاریخی پس منظر بالکل نظر انداز کر دیا گیا۔میڈیا کا یہ یکطرفہ بیانیہ عوامی شعور کو گمراہ کرتا ہے۔ہندوستانی آئین کی سیکولر بنیاد اور مذہبی ہم آہنگی کو کمزور کرتا ہے۔یہ رویہ عالمی سطح پر بھارت کی غیرجانبدار شناخت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔بھارت اور ایران کا تعلق صرف سفارتی یا سیاسی نہیں، بلکہ ہزاروں سال پرانی تہذیبی، لسانی، ادبی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہے۔فارسی زبان صدیوں تک ہندوستان کی درباری زبان رہی ہے۔اردو زبان کی جڑیں فارسی و ہندی کے اشتراک سے پھوٹتی ہیں۔صوفی روایت، شعر و ادب، موسیقی، خوش نویسی، حتیٰ کہ تعمیرات (تاج محل وغیرہ) میں ایرانی اثرات نمایاں ہیں۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء، امیر خسرو، غالب، اقبال ‘ان تمام شخصیات نے ایرانی فکر اور روحانیت کو ہندوستانی سرزمین پر پروان چڑھایا۔ایران اور بھارت کا روحانی میل جول ہزار سال پرانا ہے، جو محض سیاسی تبدیلیوں سے نہیں مٹ سکتا۔بھارت ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ، توانائی، ٹرانزٹ اور تعلیم جیسے میدانوں میں مسلسل تعاون کرتا رہا ہے۔14 سالہ اسرائیلی تعلق کو بنیاد بنا کر قدیم تہذیبی رشتے کو ترک کرنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ قومی وقار کے منافی بھی ہے۔
بھارت جیسے کثیرالمذاہب، کثیرالثقافتی اور جمہوری ملک کو کسی ایک فریق کی زبان بولنے والا ملک نہیں بننا چاہیے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ عوام کو باشعور بنائے، اشتعال انگیزی نہ کرے، اور بھارت کی غیرجانبدار و قدیم تہذیبی پوزیشن کا احترام کرے۔ایران مخالف بیانیہ بھارت کے سفارتی مفادات، سماجی ہم آہنگی اور تہذیبی رشتوں کو کمزور کرتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفاد، تاریخی ورثے اور سفارتی وقار پر استوار کرے۔ نہ کہ وقتی میڈیا پروپیگنڈا پر۔



