بین الاقوامیخبریں

اسرائیل کا ایران پر حملہ: ایک خفیہ عزائم کی کہانی

اسرائیل اس جنگ کو ایران کی جوہری طاقت یا فوجی حیثیت تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی کو مستحکم کرنے کے لیے ایران کو معادلے سے خارج کرنا چاہتا ہے۔ اگر اسرائیل اس مقصد میں کامیاب ہو گیا، تو خطے میں کوئی طاقت اس کی مرضی کے خلاف بات نہ کر سکے گی، اور اس کا مطلب ایک یک طرفہ علاقائی نظام ہوگا — جہاں استحکام اور توازن کا دارومدار صرف ایک ریاست پر ہوگا۔

حال ہی میں اسرائیل نے ایران کے ساتھ اپنے طویل مدتی تنازع کے ایک نئے اور خطرناک باب کا آغاز کیا ہے۔ اس بار اسرائیل نے ایک فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے جس کے تین بڑے اسٹریٹیجک مقاصد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیے ہیں:

  1. ایران کے جوہری پروگرام کو مفلوج کرنا
  2. تہران کی عسکری تنصیبات کو تباہ کرنا
  3. اہم فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کو ہدف بنانا

اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل اور ایران نے براہِ راست فوجی محاذ آرائی کی ہو، تاہم موجودہ جھڑپ ماضی سے مختلف ہے اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دینے کی سمت ایک ممکنہ موڑ بن سکتی ہے۔ یہ فرق تین نمایاں نکات میں ظاہر ہوتا ہے:

1. وسیع اور گہرے مقاصد:
اس بار اسرائیل کے مقاصد محض محدود نوعیت کے نہیں، بلکہ یہ وسیع پیمانے پر ایران کی عسکری و جوہری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کو طویل عرصے کے لیے عسکری طور پر پیچھے دھکیل دیا جائے، چاہے اس کا مطلب ایک کھلی جنگ نہ بھی ہو۔

2. امریکا کی غیرمعمولی حمایت:
ماضی کے برعکس، اس بار امریکا نے پہلی بار اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے کھلا اختیار دیا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اجازت اس امید کے تحت دی کہ ایران جوہری معاہدے میں امریکی شرائط قبول کرلے گا۔ لیکن اسرائیلی مقاصد محض سفارتی دباؤ سے بڑھ کر، ایک گہرے اسٹریٹیجک ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

3. ایران کا فوری اور بھرپور ردعمل:
ایران نے اس بار غیرمعمولی طور پر تیز اور سخت ردعمل دیا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بیک چینل موجود تھے، لیکن اس بار وہ خاموش ہیں۔ ایرانی قیادت کو موجودہ اسرائیلی حملہ اپنی بقا کے لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

اس موجودہ صورتحال کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی پرانی سرخ لکیروں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، اور لڑائی کا کوئی واضح “قانون” موجود نہیں۔ یہ لڑائی مکمل جنگ سے کم لیکن محض ایک عارضی جھڑپ سے زیادہ شدید ہے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں، تو موجودہ تنازع ایک ہمہ جہت جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے — خاص طور پر اگر امریکا کی حکمت عملی میں تبدیلی نہ آئی۔

نیتن یاہو امریکی اجازت کو ایک موقع سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کارروائیوں کو وسعت دیں اور اس کے اثر و رسوخ کو جڑ سے ختم کر دیں۔ یہ ایک وقتی اقدام نہیں، بلکہ ایک گہری اسٹریٹیجی کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران کی طاقت کو کمزور کر کے اسرائیل کو خطے میں غالب قوت کے طور پر ابھارنا ہے۔

اسرائیل کے اس حملے کے دو بڑے مقاصد نمایاں ہیں:

  1. ایران کی عسکری اور سیاسی حیثیت کو ختم کرنا یا اسے اتنا کمزور کر دینا کہ وہ خطے میں اثرانداز نہ ہو سکے۔
  2. مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی برتری کا قیام — یعنی وہ نیا مشرق وسطیٰ جس کا نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کی جنگ کے بعد تصور پیش کیا تھا۔

خطے کی دیگر اقوام کی تشویش:
اسرائیلی اقدامات پر خطے کے ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، کیونکہ وہ اس تصادم کو محض ایران اور اسرائیل کا مسئلہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے پورے خطے کے توازن کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ اگر اسرائیل کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ مشرق وسطیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینے کی صلاحیت حاصل کر لے گا، جو کہ دیگر ریاستوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نہ صرف فلسطین میں، بلکہ لبنان، شام، یمن اور ایران میں بھی کارروائیاں کر رہا ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل اب روایتی حدود و قیود سے آزاد ہو کر ایک علاقائی سپر پاور بننے کی راہ پر گامزن ہے۔

یہ غیر علانیہ جنگ، عراق پر 2003 کے امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور خطرناک تنازع ہے۔ جیسے صدام حکومت کے زوال نے ایران کو تقویت بخشی تھی، ویسے ہی موجودہ جنگ ایران کو کمزور کر کے اسرائیل کو بالادستی دینے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

نتیجہ:
اسرائیل اس جنگ کو ایران کی جوہری طاقت یا فوجی حیثیت تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی کو مستحکم کرنے کے لیے ایران کو معادلے سے خارج کرنا چاہتا ہے۔ اگر اسرائیل اس مقصد میں کامیاب ہو گیا، تو خطے میں کوئی طاقت اس کی مرضی کے خلاف بات نہ کر سکے گی، اور اس کا مطلب ایک یک طرفہ علاقائی نظام ہوگا — جہاں استحکام اور توازن کا دارومدار صرف ایک ریاست پر ہوگا۔

یہ اسرائیلی طرز عمل پورے خطے کو ایک نئی، غیر یقینی اور ممکنہ طور پر خطرناک سمت میں دھکیل سکتا ہے، جس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن مکمل طور پر ختم ہو جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button